سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 149

149 سبیل الرشاد جلد دوم جائے اور اس کی محبت کے حصول کے لئے انتہائی کوشش اور مجاہدہ کیا جائے۔یہ سب کوششیں اسی صفت سے تعلق رکھتی ہیں لیکن کوئی کوشش بالواسطہ اس سے تعلق رکھتی ہے اور کوئی کوشش دور کا چکر کاٹ کر بلا واسطہ اس سے تعلق رکھتی ہے لیکن رحیم کے حقیقی معنی یہی ہیں کہ وہ نیک اعمال کا بہترین بدلہ دیتا ہے یعنی وہ اعمال جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کئے جائیں اللہ تعالیٰ ان کا بہترین بدلہ دیتا ہے۔اسلام نے تو اپنی پر حکمت تعلیم سے دنیا کے ہر عمل کو ایسا بنا دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کے منہ میں اس نیت سے لقمہ ڈالتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے تم اپنی بیویوں سے حسن سلوک کرو۔اس طرح ایک تو دنیوی تعلق محبت کے مطالبے بھی پورے ہو گئے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس کو ثواب بھی دے دے گا۔تو دنیا کا ہر کام اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور اس کی ہدایت کے مطابق کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں دین ہی کا کام ہے۔پس رحیم کے اصل معنی یہ ہیں کہ جو نیکیاں بجالائی جائیں ان کا وہ اجر دیتا ہے۔انسان کی کمزوری کے نتیجہ میں نیکیاں بجالانے میں دو خامیاں اور نقص پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک نقص بیچ میں یہ رہ جاتا ہے کہ ایک شخص اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہے لیکن کوئی شیطانی وسوسہ آ جاتا ہے، کوئی دنیوی دباؤ آ پڑتا ہے اور نیکی کا رنگ خلوص اور اخلاص کا نہیں رہتا۔کوئی داغ پڑ جاتا ہے جیسے پھلوں میں سے سیب پر آپ نے دیکھا کہ اندر سے ٹھیک ہوتا ہے مگر اس پر داغ پڑ جاتا ہے اور وہ داغی ہو جاتا ہے۔یہی حال دوسرے پھلوں کا ہے۔اعمال صالحہ کا بھی یہی حال ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔تو رحیمیت کے معنی میں ایک پردہ پوشی بھی پائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے اور ہمیں یہ تسلی دلائی ہے کہ اگر تم اخلاص نیت سے کام کرو گے تو اس قسم کے نقائص اور عیب اور داغ اگر رہ جائیں گے تو میں اپنی مغفرت کی چادر میں انہیں لپیٹ لوں گا۔بعض دفعہ تمہیں پتہ بھی نہیں ہو گا۔کہ میری رحمت کو تم کس طرح حاصل کر رہے ہو۔اور میں ان کو ایک خالص، بے عیب اور بے داغ نیکی کے طور پر قبول کروں گا اور پھر اس کا بدلہ دوں گا۔غرض رحیمیت میں مغفرت کا مفہوم بھی آتا ہے۔نیکیاں بجالانے میں دوسر انقص انسان کی کمزوری کے نتیجہ میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ایک کوشش کرتا ہے لیکن یا تو اس کی قوتوں میں کمزوری ہوتی ہے یا اُسے پورے اسباب اور ذرائع میسر نہیں آتے اور اس لحاظ سے اس کی کوشش کامل اور مکمل نہیں ہوتی اور چونکہ کمال مجاہدہ نہیں ہوتا اس لئے اس کے لئے نیکی کے ثمرہ اور ثواب کے کمال کا حصول عام حالات میں ممکن نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں رحیم ہوں میں تمہیں تمہاری کوششوں کو کمال تک پہنچانے میں خود مددکروں گا۔غرض رحیمیت کا یہ مفہوم بھی