سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 112

112 سبیل الرشاد جلد دوم پر انوار نبوت پا کر دُنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی برکات لوگوں کو دکھلاویں۔یہ بھی یادر ہے کہ ہر ایک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجد دوقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے۔اگر صرف۔بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسی سے حضرت مسیح تک ہزار ہا نبی اور محدث اُن میں پیدا ہوئے جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہو کر تو ریت کی خدمت میں مصروف رہے۔۔۔آپ کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسی کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کے لئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزار ہانبی اس شریعت کی تجدید کے لئے بھیجے اور بار ہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے سے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ اُمت جو خیر الامم کہلاتی ہے اور خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بد قسمت سمجھی جائے کہ خدا تعالیٰ نے صرف تمیں برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اس سے منہ پھیر لیا کیا اُس کریم خدا سے ایسا ہو سکتا ہے جس نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے مفاسد دُور کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اُس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزار ہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مور دغضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کر کے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا۔لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا۔گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسی کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔انسان نہایت ضعیف اور ہمیشہ تقویت ایمان کا محتاج ہے اور اس راہ میں اپنے خود ساختہ دلائل کبھی کام نہیں آ سکتے جب تک تازہ طور پر معلوم نہ ہو کہ خدا موجود ہے۔ہاں جھوٹا ایمان جو بدکاریوں کو روک نہیں سکتا نقلی اور عقلی طور پر قائم