سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 113
113 سبیل الرشاد جلد دوم رہ سکتا ہے۔اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ دین کی تکمیل اس بات کو مستلزم نہیں جو اس کی مناسب حفاظت سے بکنی دستبردار ہو جائے۔۔۔یہ یادر ہے کہ مجد دلوگ دین میں کچھ کمی بیشتی نہیں کرتے ہاں گمشدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجد دوں پر ایمان لا نا کچھ فرض نہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (سورة النور: 56) یعنی بعد اس کے جو خلیفے بھیجے جائیں پھر جو شخص اس کا منکر رہے وہ فاسقوں میں سے ہے۔اب خلاصہ اس تمام تقریر کا کسی قدر اختصار کے ساتھ ہم ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دلائل مندرجہ ذیل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمت میں فساد اور فتنوں کے وقتوں میں ایسے مصلح آتے رہیں جن کو انبیاء کے کئی کاموں میں سے یہ ایک کام سپر د ہو کہ وہ دینِ حق کی طرف دعوت کریں اور ہر یک بدعت جو دین سے مل گئی ہو۔اس کو دُور کریں اور آسمانی روشنی پاکر دین کی صداقت ہر ایک پہلو سے لوگوں کو دکھلا دیں اور اپنے پاک نمونہ سے لوگوں کو سچائی اور محبت اور پاکیزگی کی طرف کھینچیں۔دلائل مذکورہ دینے کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس اُمت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہہ دینا کیا معنی رکھتا تھا۔چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں ، ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ ر ہے۔۔۔۔۔۔۔اور پھر یہ آیت خلافت ائمہ پر گواہ ناطق ہے وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ انَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ يَرِثُهَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہو تو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح۔اور سب کا شہادت القرآن طبع اوّل صفحه ۳۰ - ۳۱ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۲ تا ۳۴۵ سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۶ 2