سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 111

111 سبیل الرشاد جلد دوم سلسلہ جو ہے اس کی رُو سے امت محمدیہ میں سینکڑوں ہزاروں بلکہ لاکھوں خلفاء پیدا ہوئے جیسا کہ اُمّتِ موسویہ میں سینکڑوں ہزاروں خلفاء پیدا ہوئے ، کچھ انبیاء کے نام سے اور کچھ ربانی علماء کے نام سے آئے۔پس گما“ جو آیت استخلاف میں ہے یہ گما“ ہم سے ایک دوسرا وعدہ بھی کرتا ہے اور وہ یہ کہ جس طرح اُمتِ موسویہ میں اللہ تعالیٰ کے ہزاروں نیک بندے خلیفہ کی حیثیت میں یعنی نائب رسول کی حیثیت میں رسول ہی کا کام کرنے والے پیدا ہوئے اسی طرح اُمت محمدیہ میں سینکڑوں ہزاروں ایسے خدا کے بزرگ بندے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے والے پیدا ہوں گے جو اسلام کے چہرہ کو روشن رکھیں گے اور جیسا کہ ایک ایک وقت میں اُمتِ موسویہ میں چار چار سو نائب اور خلیفہ بھی پیدا ہوئے اس کے مقابلہ میں چونکہ امت محمدیہ کا دائرہ وسیع ہے، ہو سکتا ہے کہ امت موسویہ کے چارسو کے مقابلہ میں ایک ہی وقت میں چار ہزار بزرگ پیدا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام کی حیثیت میں اور آپ کی نیابت میں آپ کا کام کریں۔اس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ظاہر ہوگی۔پس یہ بھی گما کے لفظ میں ایک وعدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر بھی بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند حوالے میں اکٹھے پڑھ دوں گا۔آپ بھی اس پر غور کریں میں بھی بعد میں مختصر طور پر نتیجہ نکالوں گا۔آپ فرماتے ہیں: و جس حالت میں خدا تعالیٰ شریعت موسوی کی تجدید ہزار ہا نبیوں کے ذریعہ سے کرتا رہا ہے اور گو وہ صاحب کتاب نہ تھے مگر مجد دشریعت موسوی تھے یہ امت خیر الامم ہے قَالَ اللهُ تَعَالَى - كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس امت کو خداتعالی بالکل گوشتہ خاطر عاطر سے فراموش کر دے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ وعدہ دے چکا ہے کہ اس دُنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا۔آیت استخلاف میں یہ وعدہ دیا قیامت تک اس کو قائم کرے گا یعنی جس طرح موسیٰ کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم نہیں ہونے دے گا۔فرمایا : پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلمی طور سورة آل عمران آیت -111 مکتوبات حضرت مسیح موعود بنام حاجی محمد ولی اللہ صاحب ۳۰ / دسمبر ۱۸۸۴ء مشموله مکتوبات احمد جلد ششم حصہ اوّل صفحه ۱۰