سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 102
سبیل الرشاد جلد دوم پھر آپ فرماتے ہیں : چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حسب وعدہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ آخری خلیفہ اس امت کا حضرت عیسی علیہ السلام کے رنگ میں آئے گا۔پھر اسی کتاب میں فرماتے ہیں : اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفاء محمد یہ ہے جو سلسلہ خلافت محمد یہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔102 پھر آپ حضرت موسی کی شریعت اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور مکمل شریعت جو قرآن کریم کی شکل میں ظاہر ہوئی پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک شریعتِ موسویہ دوسری شریعت محمد یہ۔اور ان دونوں سلسلوں میں تیرہ تیرہ خلیفے مقرر کئے ہیں۔“ پس اس واسطے آخری خلیفہ کے ہم کوئی اور معنی نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو اس کے ظاہری معنی ہیں کیونکہ آپ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اس سلسلہ میں صرف تیرہ خلیفے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اس سلسلہ میں صرف تیرہ خلیفے ہیں اور میں آخری ہوں۔تو معلوم ہوا کہ اس آخری کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے اور اس سلسلۂ خلافت میں کسی اور کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب میں کچھ حوالے اس ضمن میں اور پڑھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحفہ گولڑویہ میں فرماتے ہیں : جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلۂ خلافتِ موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلہ نبوت محمدیہ کے خلیفے سلسلہ نبوت موسویہ کے مشابہ و مماثل ہیں وہ آیت یہ ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو ہمیں ماننا پڑتا ہے تحفہ گولڑو یہ صفحہ ۶۸ روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۰۲ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۵۷ روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۱۸۳ ا تحفہ گولڑ و یه صفحه ۶۳ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۹۲