سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 101
101 سبیل الرشاد جلد دوم تفصیلات کو محفوظ رکھا اور آخری کڑی کی تاریخی تفصیلات کو بھی محفوظ رکھا۔یعنی یوشع بن نون کے متعلق بھی ہمیں تفصیلی حالات معلوم ہیں اور حضرت مسیح ناصرٹی کے متعلق بھی تفصیلی حالات ہمیں معلوم ہیں۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی تفصیلی حالات ہمیں معلوم ہیں جو آپ کے صحابہ اب بھی زندہ ہیں انہوں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو دیکھا اور جو ان کے بعد آنے والی نسل ہے ان کے سامنے بھی بار بار یہ تفصیل آتی ہے اور اس تفصیل کو جاننے والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کن رنگوں میں اور کس طریق پر۔ایک کامل مشابہت حضرت مسیح علیہ السلام سے رکھتے ہیں۔وہی حالات آپ کی زندگی پر گزرے جو حالات حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی پر گزرے۔میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔اور آپ نے فرمایا ہے کہ اس سلسلۂ خلافت اور اس سلسلہ مسجد دین کا میں آخری خلیفہ ہوں سب سے آخر پر آنے والا۔میرے بعد اس سلسلہ میں کوئی مجد د پیدا نہیں ہوگا۔بشمولیت ہمارے مجد داعظم اس سلسلہ کے خلفاء چودہ تھے اور چودہ کا عددمیں نے پورا کر دیا۔اور آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ جس طرح وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت مسیح ناصرٹی تک جو آپ کے آخری خلیفہ تھے تیرہ خلفاء پیدا ہوئے جن میں سے پہلے بارہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور تیرھواں بے باپ پیدا ہونے کی وجہ سے آپ کی قوم کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ ان کے باپ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے۔اسی طرح امت محمدیہ کے تیرہ خلفاء میں سے پہلے بارہ اسی مشابہت گما کی وجہ سے قریش میں سے ہوئے اور ضروری تھا کہ تیرھواں قریش میں سے نہ ہوتا اور نہ مماثلت قائم نہ رہتی اور وہ میں ہوں موعود مسیحیت کا دعویٰ کرنے والا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ کے آخر میں خود کو قرار دیا ہے۔اس سلسلہ میں بہت سے حوالے ہیں یہاں چند کو میں نے منتخب کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کی خلافت کا آخری خلیفہ جو مسیح موعود سے موسوم ہے سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے جو حضرت عیسی بن مریم ہے مشابہت رکھے۔پھر آپ اسی کتاب میں لکھتے ہیں : اس سلسلہ مساوات سے لازم آیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اسلام کے مسیح موعود سے جو شریعت اسلامیہ کا آخری خلیفہ ہے مشابہت رکھتے ہیں۔تحفہ گولڑویہ صفحہ ۶۲ طبع اول رُوحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۹۱ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۶۲ روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۹۲