سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 103

سبیل الرشاد جلد دوم جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلت ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفائے محمد یہ ہے جو سلسلۂ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں (یہ بھی اسی کی وضاحت ہے ): ’اور پھر خدا نے محمد کی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی سلسلہ کے خلیفوں سے مشابہت دے کر صاف طور پر سمجھا دیا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ہے اور درمیان میں بارہ خلیفے ہیں تا موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس جگہ بھی چودہ کا عدد پورا ہو۔( یعنی بشمولیت حضرت موسیٰ اور رسولِ اکرم مجد واعظم صلی اللہ علیہ وسلم ) 103 پس اس سلسلۂ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں خلیفہ کی کوئی گنجائش نہیں اگر آپ کو شامل کیا جائے تو پندرھویں خلیفہ کی اس سلسلہ خلافت میں کوئی گنجائش نہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: اور جس حالت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ٹھہرے اور نیز سلسلہ خلفا ء آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیلِ سلسلہ موسیٰ علیہ السلام قرار پایا جیسا کہ نص صریح اس پر دلالت کرتی ہے۔پس واجب ہوا کہ سلسلہ محمد یہ ایک ایسے خلیفہ پر ختم ہو کہ وہ مثیلِ عیسی علیہ السلام ہو وے جیسا کہ سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام پر ختم ہوا تا کہ یہ دونوں سلسلے با ہم مطابق ہو جائیں اور تا کہ وعدہ مماثلت اِس سلسلہ کے خلیفوں کا اور اُس سلسلہ کے خلیفوں کا پورا ہو جائے جیسا کہ امر مماثلت گما کے لفظ سے ظاہر ہے جو آیت میں موجود ہے۔3 66 پھر آپ فرماتے ہیں : اور پھر ماسوا اس کے سورۃ مرسلات میں ایک آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت کی ایک بھاری علامت یہ ہے کہ ایسا شخص پیدا ہو جس سے رسولوں کی حد بست ہو جائے (یہاں آپ نے فرمایا ہے کہ یہاں رسولوں سے مُراد اس سلسلہ کے خلفاء ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں جو مجد داعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفہ گولڑو یہ طبع اول صفحه ۵۶-۵۷ روحانی خزائن جلد۷ اصفحه ۱۸۳ تحفہ گولڑو یہ طبع اوّل صفحه ۲۳ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۴ ا ترجمه خطبہ الہامیہ طبع اول صفحه ۵۱-۲ ۵ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۹۱-۹۲