سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 82

سبیل الرشاد جلد دوم 82 73 طاقت دکھلا چکا ہے یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلّت کے ساتھ پسپا ہو گا اور اسلام فتح پائے گا۔آپ فرماتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ گند ہو گا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔“ اس کا مطلب سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن کی طرف رجوع کرنا ہے۔جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نور سے دو چیزیں مراد ہیں ایک قرآن کریم کا نور۔ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اللہ تعالیٰ سورۃ شوری میں فرماتا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسا نور ہے جو سب سے سیدھے راستہ کی طرف انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ایسے راستہ کی طرف جو انسان کو اگر وہ اس راستہ کو اختیار کرے اللہ تعالیٰ کا مقرب بنا دیتا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتا ہے اور انسان کو یہ توفیق عطا کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نور سے منور ہو جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُورًا کہ ہم نے قرآن کریم کو نور بنایا ہے اور اس کے ذریعہ سے صداقت کی سب راہوں کو منور کیا ہے اور اس کے ذریعہ سے انسان کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ وہ اس کی ہدایتوں پر چل کر اللہ تعالیٰ کے نور سے حصہ لے اور وہ جونور کا سر چشمہ اور سراپا نور ہے اس کا مظہر بن کر دنیا میں ایک نورانی وجود کی شکل میں ظاہر ہو اور دنیا کی اصلاح کی توفیق پائے اور اسے اس بات کی توفیق ملے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت پانے والا اور اللہ تعالیٰ سے رحمتیں حاصل کرنے والا ہو اور اس کے فضلوں کا وارث بنے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَامِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس قرآن کریم پر بھی جو ایک نور کی شکل میں ہم نے اتارا ہے۔قرآن کریم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بہت سی آیات میں نور قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ابدی نور کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوئے۔اللہ تعالیٰ سورۃ مائدہ میں فرماتا ہے۔1 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴ ۲۵ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۷ طبع دوم سوره شوری آیت ۵۳ سورہ تغابن آیت ۹