سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 83
سبیل الرشاد جلد دوم 83 قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللهِ نُوْرٌ وَكِتُبٌ مُّبِينٌ) جَاءَكُمْ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تو نور اترا ہے اور ایک روشن کتاب آ چکی ہے یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نور قرار دیا گیا ہے اور قرآن کریم کو بھی نور قرار دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سورۃ احزاب میں سراجاً منيراً کا فقرہ آیا ہے کہ ایک چمکتا ہوا سورج بنا کر اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ایک ایسا سورج جو رات کے اندھیروں میں چھپتا نہیں بلکہ دنیا کو ابدی طور پر منور کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اور وہی شخص خدا کی نگاہ میں منور ہوتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حصہ لیتا ہے اور آپ کے فیوض اور برکات پاتا ہے۔دنیا میں اب کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایک پختہ تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قائم نہ کرے اور آپ کے فیوض سے حصہ نہ لے۔اس مضمون میں تو اس وقت میں نہیں جاؤں گا یہ ایک مستقل مضمون ہے۔وہ کون سی راہیں ہیں جن پر چل کر اللہ تعالیٰ انسان کو یہ توفیق عطا کرتا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پختہ تعلق قائم کرے اور آپ کے فیوض اور آپ کی برکات سے حصہ لینے والا ہو۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دی که كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ہر برکت کا سر چشمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور مبارک وہی ہے جو اس چشمہ سے برکت کا پانی پئے۔جو اس چشمہ پر نہیں آتا وہ گدلا پانی تو پی سکتا ہے، ایسا پانی جو برکتوں اور رحمتوں اور فضلوں کا پانی نہیں اور اس پیاس کو نہیں بجھا سکتا جو قرب الہی کے حصول کی پیاس اللہ تعالیٰ نے انسان کو لگائی ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ قرآن بھی نور ہے اور اس میں اس قد ر ز بر دست صداقتیں بیان ہوئی ہیں کہ کوئی باطل عقیدہ ان کے خلاف ٹھہر نہیں سکتا اور علوم جدیدہ کے ہتھیار اس کے مقابل پر گند اور نا کارہ ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتایا کہ اس نور کا مقابلہ کرنے کے لئے شیطانی اندھیرے اپنا پورا زور لگا ئیں گے اور ہمیں یہ بھی بتایا کہ جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ ، اسلام کے نور کے لئے کھول دے اور اسے علی نور من ربہ اپنے رب کے نور کا حامل بنائے ایسا شخص اس دوسرے شخص کی طرح نہیں ہو سکتا جس نے اسلام کے نور سے نور حاصل نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ہدایت کی راہوں پر اس وقت چل سکتے ہو جب تم قرآن کریم کے نور سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے اپنی ہدایت کی راہوں کو منور کرو۔يَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمُشُونَ بِہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایک نور مقدر کر سوره مائده آیت ۱۶ تذکره صفحه ۳۵ ایڈیشن چهارم سورة حديد آیت ۲۹