سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 94

۹۴ خرابی کو دور کر سکیں اور اگر عوام میں کوئی خرابی واقع ہو جائے تو نظام اس کی اصلاح کے لئے جاگ رہا ہو۔یہ کم سے کم توقع ہے۔جو ہم سے ہر شخص کو رکھنی چاہئے۔تا کہ ہماری قومی اور جماعتی زندگی ہموت کے دن سے زیادہ سے زیادہ دور رہے۔پس میں اس نصیحت کے ساتھ انصار اللہ کو بیدار کرنا چاہتا ہوں اور خدام الاحمدیہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں۔خدام الاحمدیہ بیشک نسبتا زیادہ بیدار ہیں مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ بھی قشر کی طرف زیادہ متوجہ ہیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ یہ کوئی خوبی نہیں کہ کسی قوم کے تین یا چار پانچ آدمی مل کر اچھا مارچ کر سکتے یا کوئی اور دنیوی کام کر سکتے ہیں۔بلکہ خوبی تو یہ ہے کہ جماعت میں تین یا چار یا پانچ آدمی پیدا کر دیئے جائیں جن کی روحیں اکٹھی ہوں اور جو روحانی میدان میں مل کر قدم اٹھا سکتے ہوں۔مذہبی دنیا میں کبھی قدموں کو ملا کر چلنے سے کامیابی نہیں ہوا کرتی بلکہ مذہبی دنیا میں روحوں کے متحد ہونے سے کامیابی حاصل ہوا کرتی ہے۔مگر اس میں ابھی بہت بڑی کو تا ہی پائی جاتی ہے۔ہر شخص دوسرے پر اعتراض کرتا اور اعتراض کرنے کو ہی اپنی خوبی اور کمال سمجھتا ہے۔ایک افسر دوسرے افسر کی جگہ مقرر کیا جاتا ہے تو ہمیشہ اس کا یہ طریق نظر آتا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے یہ کام کیا مگر دوسرے کے کام میں یہ یہ نقص تھا۔اسے کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ میں اس قسم کے الفاظ کہہ کر اپنے نقص کا آپ اظہار کر رہا ہوں۔بے شک دوسرے افسر کے کام میں کوتا ہی ہو گی مگر جب یہی اس کا نقص بیان کرتا اور اپنی خوبیاں شمار کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت بہم پہنچارہا ہوتا ہے کہ اگر پہلے افسر کا کوئی عمل ناقص تھا تو اس کا ایمان ناقص ہے۔پس مادی حالات کی درستی نہیں بلکہ روحوں کی درستی سے مذہبی جماعتیں دنیا میں کامیاب ہوا کرتی ہیں۔مگر اس طرف خدام کی توجہ ا بھی کم ہے۔لیکن بہر حال انصار اللہ سے وہ کچھ زیادہ بیدار ہیں۔اگر یہ دونوں یعنی خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ مل کر جماعت میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت ہمارا نظام