سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 93

۹۳ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سب کام خدا کے اختیار میں ہے اور انسان اگر کامیاب ہونا چاہئے تو اس کا فرض ہے کہ وہ بجز اور انکسار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے۔مگر دعاؤں کے ساتھ انسان کا اپنا ارادہ اور اس کی امنگ بھی شامل ہونی چاہئے تب دعاؤں کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔جیسے میں نے ابھی بتایا ہے کہ جب تقدیر اور تدبیر جمع ہو جاتی ہیں تو اس وقت برکات کا ظہور اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے۔یا جیسے میں نے بتایا ہے کہ عوام اور نظام دونوں بیدار ہوں تو وہ وقت قوم کی فتح کا اور وہ گھڑیاں اس کی کامرانی کی گھڑیاں ہوتی ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ ایسا ہی زمانہ تھا کہ تقدیر الہی آسمان سے جاری تھی اور زمین پر تدبیروں کا ڈھیر لگایا جارہا تھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے لئے ایک وفد آیا۔وفدا بھی پیچھے ہی تھا کہ ان میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے کے لئے آگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا تم بہت جلدی آگئے۔تمہاری قوم نہیں آئی۔اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ وہ اپنے اونٹ باندھ رہے ہیں مگر میں اپنے اونٹ خدا کے سپرد کر کے آ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اپنے اونٹ کی رسی باندھو۔اس کے بعد اپنے رب پر توکل کرو۔تو وہ زمانہ ایسا تھا جب تقدیر اور تد بیر دونوں اپنے انتہاء کو پہنچی ہوئی تھیں۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اسلام کو وہ فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں جن کی مثال نہ پہلے کسی زمانہ میں ملتی ہے اور نہ بعد میں کسی زمانہ میں نظر آتی ہے۔اس وقت آسمان سے خدا تعالیٰ کے فرشتے ہی دشمنوں پر حملہ نہیں کر رہے تھے بلکہ زمین پر مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی کفار مارے جارہے تھے اور جب دو طرف سے حملہ ہو، تو تم جانتے ہو کہ درمیان میں آنے والی کوئی چیز بیچ نہیں سکتی۔پس جب خدا کی تقدیر اور بندے کی تدبیر جمع ہو جاتی ہے تو اس وقت ہر چیز جو درمیان میں آتی ہے، ہٹتی چلی جاتی ہے اور ہر کامیابی اور ہر فتح حاصل ہوتی چلی جاتی ہے۔پس اصل کامیابی تو اسی بات میں ہے کہ ہم کوشش کریں کہ آسمان سے خدائی تقدیر بھی ہمارے حق میں جاری رہے، اور زمین پر ہماری تدبیریں بھی ہمیں کامیابی کے قریب تر کرتی رہیں۔لیکن اگر یہ نہ ہو تو کم سے کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ اگر ہمارے نظام میں خرابی آجائے تو عوام بیدار ہوں ، جو اس