سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 84

۸۴ فعال اور کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔باقی کسی کا اپنی ہفتہ وار یا ماہوار یا سالانہ رپورٹ شائع کر دینا کوئی بڑی بات نہیں اور نہ اس سے کام کے متعلق کوئی صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اگر ہم دنیا میں یہ اعلان کرنا شروع کر دیں کہ اس دنیا کے پردہ پر ایک احمدیہ جماعت بھی موجود ہے تو یہ اعلان بالکل مضحکہ خیز ہوگا۔لیکن اگر جہاں جہاں بھی ہماری جماعتیں موجود ہیں وہ اپنے وجود کو نمایاں کرنا شروع کر دیں۔یہاں تک کہ ہر شخص کہے کہ ہمارے شہر میں ایک عجیب جماعت پیدا ہوگئی ہے۔اس کے افراد لوگوں کو تبلیغیں کرتے تعلیمیں دیتے ہیں، بڑی بڑی نیک اور اچھی باتیں بتاتے ہیں۔لوگوں سے کہتے رہتے ہیں کہ دیکھو تم نمازیں پڑھو، روزے رکھو، زکوۃ دو، حج کرو، سچ بولو، امن سے رہو۔تو بے شک یہ تعریف صحیح تعریف ہوگی اور بے شک اس اشتہار سے بڑھ کر جماعت کی نیک نامی کا اور کوئی اشتہار نہیں ہوگا۔لیکن اگر ہم ایسا تو نہ کریں اور صرف ہفتہ وار، ماہوار، یا سالانہ یہ اعلان کر دیں کہ احمد یہ جماعت بھی دنیا پر موجود ہے تو اس کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔پس میرا مقصد ان جماعتوں کے قیام سے ہر فرد کے اندر ایک بیداری پیدا کرنا تھا۔مگر یہ بیداری ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔خدام میں ایک حد تک بیداری کا رنگ پایا جاتا ہے، مگر وہ رنگ بھی تھوڑا بلکہ بہت ہی تھوڑا ہے۔شاید دس فیصدی بیداری ہے جو ابھی تک خدام میں پیدا ہوئی ہے۔لیکن انصار اللہ میں ابھی تک صرف ایک فیصدی بیداری پیدا ہوئی ہے۔پس جتنی بیداری خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے ذریعہ جماعت میں پیدا ہوئی ہے، وہ ہرگز کافی نہیں۔بلکہ کافی کا ہزارواں حصہ بھی نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انصار اللہ خصوصیت کے ساتھ اپنے کام کی عمدگی سے نگرانی کریں۔تا کہ ہر جگہ اور ہر مقام پر ان کا کام نمایاں ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور وہ محسوس کرنے لگ جائیں کہ یہ ایک زندہ اور کام کرنے والی جماعت ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں ، جب تک انصار اللہ اپنی ترقی کے لئے صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے۔اس وقت تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔مثلاً میں نے انہیں توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے