سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 83
۸۳ ہر دو قدم کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے اور اس فاصلہ کے اندر آنے والی چیونٹیاں نہیں مرتیں۔پس جب تم چلتے ہو تو کچھ چیونٹیاں مرجاتی ہیں اور کچھ بچ رہتی ہیں۔اب اگر اسی قسم کی خدمات کا رپورٹوں میں ذکر ہونے لگے تو ایک شخص کہہ سکتا ہے میں نے مخلوق خدا کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔آج میں نے اتنے ہزار یا اتنے لاکھ چیونٹیوں کی جانیں بچائیں۔حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ جس قد ر چیونٹیاں چلتے ہوئے ملیں گی ان میں سے ساری تو مریں گی نہیں۔کچھ مریں گی اور زیادہ تر بچ جائیں گی۔چاہے کسی کا چیونٹیوں سے سارا گھر بھرا ہوا ہو۔پھر بھی یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اس کے پاؤں کے نیچے سب چیونٹیاں آجائیں اور مر جائیں۔لاز ما کئی ہزار بلکہ کئی لاکھ چیونٹیاں بچ جائیں گی۔اب اگر اسی قسم کے کاموں کو خدمت خلق قرار دے دیا جائے تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے بڑھ کر اور کس نے خدمت خلق کی ہے۔میں نے آج اتنے لاکھ چیونٹیوں کی جان بچائی ہے۔اگر اس رنگ کی خدمات شمار میں آنے لگ جائیں تو ہر شخص کی خدمات کی ایک بڑی بھاری فہرست روزانہ تیار ہو سکتی ہے اور وہ رپورٹ میں اپنا کام ظاہر کرنے کے لئے کافی سمجھی جاسکتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اگر ہم گناہ گنے لگ جائیں تو ان گناہوں کی بھی ایک لمبی فہرست روزانہ تیار ہوسکتی ہے۔پس یہ رپورٹیں کچھ چیز نہیں۔اصل چیز بیداری ہے جو ہر شخص کو نظر آجائے۔کسی شخص نے یہ کیا ہی لطیف مثال بنادی ہے۔جو آج ساری دنیا میں نقل کی جاتی ہے کہ مشک آنست که خود ببوید نه که عطار بگوید مشک پہچاننے کے لئے اگر عطار کی تعریف کی ضرورت ہو اور وہ کہے کہ یہ مشک فلاں جگہ سے آیا ہے اس کا نافہ ایسا عمدہ ہے لیکن ناک میں خوشبو نہ آئے تو ایسے مشک کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔مشک تو وہی ہے کہ عطار چپ کر کے بیٹھ جائے اور خریدار مشک کی خوشبو سونگھ کر ہی بتیاب ہو جائے اور کہے کہ یہ مشک نکالومیں اسے خریدنا چاہتا ہوں، یہ بڑا اعلیٰ مشک ہے۔تو اصل خوبی کام کی یہی ہوتی ہے۔اگر ایک غیر اور اجنبی شخص بھی آجائے تو اسے پتہ لگ جائے کہ یہاں کوئی