سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 85

۸۵ کام کی توسیع کے لئے روپیہ جمع کریں اور اسے مناسب اور ضروری کاموں پر خرچ کریں۔مگر میری اس ہدایت کی طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی۔اب میں دوسری بات انہیں یہ کہنا چاہتا ہوں گو غالبا میں ایک دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں، کہ اگر انہیں مالی مشکلات ہوں تو سلسلہ کی طرف سے کسی حد تک انہیں مالی مدد بھی دی جاسکتی ہے۔مگر بہر حال پہلے انہیں خود عملی قدم اٹھانا چاہئے اور روپیہ خرچ کر کے اپنے کام کی توسیع کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں بڑی عمر کے لوگوں کو ضرور یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے کہ وہ شباب کی عمر میں سے گذر کر اب ایک ایسے حصہ عمر میں سے گزر رہے ہیں جس میں دماغ تو سوچنے کے لئے موجود ہوتا ہے، مگر زیادہ عمر گزرنے کے بعد ہاتھ پاؤں محنت مشقت اور کام کرنے کے قابل نہیں رہتے اس کی وجہ سے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں کے سرانجام کے لئے کچھ نو جوان سیکرٹری چالیس سال کے اوپر کے مگر زیادہ عمر کے نہ ہوں ) مقرر کریں۔جن کے ہاتھ پاؤں میں طاقت ہو اور وہ دوڑنے بھاگنے کا کام آسانی سے کر سکیں۔تاکہ ان کے کاموں میں سستی اور غفلت کے آثار پیدا نہ ہوں میں سمجھتا ہوں اگر چالیس سال سے پچپن سال کی عمر تک کے لوگوں پر نظر دوڑاتے تو انہیں ضرور اس عمر کے لوگوں میں سے ایسے لوگ مل جاتے ، جن کے ہاتھ پاؤں بھی ویسے ہی چلتے جیسے ان کے دماغ چلتے ہیں۔مگر انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی اور صرف انہی کو سیکرٹری مقرر کر دیا جن کا نام میں نے ایک دفعہ لیا تھا۔حالانکہ ہر سیکرٹری کے ساتھ انہیں ایسے آدمی لگانے چاہئے تھے جو اپنی عمر کے لحاظ سے گو خدام الاحمدیہ میں شامل نہ ہو سکتے تھے مگر اپنے اندر نو جوانوں کی سی ہمت اور طاقت رکھتے ، دوڑنے بھاگنے کی قوت ان میں موجود ہوتی محنت و مشقت کے کام وہ با آسانی کر سکتے ، لوگوں کو بار بار جگاتے اور بار بار انہیں بیدار کرنے کی کوشش کرتے۔اگر اب بھی وہ ایسا کریں اور جوان ہمت انصار اللہ کو سیکرٹریوں کے نائب مقرر کر دیں۔تو میں امید کرتا ہوں کہ ان کے اندر وہ بیداری پیدا ہوسکتی ہے جس بیداری کو پیدا کرنے کے بغیر محض نام کا انصار اللہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔یہ ایک الہی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے جب اس کے جسمانی قوی تو نشو ونما پاتے ہیں۔مگر اس کے دماغی قومی ابھی پردہ میں ہوتے