سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 82
۸۲ کسی گھر میں لگا ہوا ہو تو تمام گھر کے افراد کو اس کے وجود کا احساس ہو جاتا ہے اور ہر شخص کے ناک میں جب ہوا داخل ہوتی ہے وہ فور آناک سمجھ جاتا ہے کہ اس گھر میں گلاب لگا ہوا ہے یا موتیا لگا ہوا ہے یا چنبیلی کا پودا لگا ہوا ہے۔تو زندگی کے آثار ہونے ضروری ہیں۔ان آثار کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں کہلا سکتا، چاہے بظاہر وہ زندہ ہی دکھائی دے۔جب کوئی شخص اس دنیا میں آتا ہے تو اسے دنیا میں اپنی زندگی کا کوئی ثبوت دینا چاہئے اور ایسے نقوش چھوڑ نے چاہئیں جن سے دنیا اس کی زندگی کا احساس کر سکے اور اسے معلوم ہو کہ اس دنیا میں فلاں شخص آیا تھا۔اور اس نے فلاں فلاں کام کیا۔پس کام کرنے والی جماعت وہ نہیں ہو سکتی جو چندر پورٹیں شائع کر دے۔بلکہ کام کرنے والی جماعت وہ کہلا سکتی ہے کہ جب کوئی غیر شخص قادیان میں آئے تو بغیر اس کے کہ اسے کوئی بتائے کہ یہاں خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کی جماعتیں ہیں، اسے خود بخود محسوس ہونے لگے کہ یہاں کوئی کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔جب کوئی لاہور میں جائے یا امرتسر میں جائے یا اور کسی شہر میں جائے تو اس شہر میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہونے لگ جائے کہ وہ کسی ایسے شہر میں آیا ہے، جہاں کوئی نمایاں کام کرنے والی زندہ جماعت موجود ہے۔مگر جہاں جا کر یہ پستہ نہ لگے اور دوسروں کو خود اس بات کی ضرورت محسوس ہو کہ وہ اسے بتائیں کہ یہاں انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کی جماعت ہے تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ وہ لوگ مردہ ہیں اور اپنے اند زندگی کے کوئی آثار نہیں رکھتے۔یہ چیز ہے جو میں انصار اللہ میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔مگر میں نہیں دیکھتا کہ یہ چیز ان میں پیدا ہوگئی ہے۔سوائے اس کے کہ کبھی کبھی میرے پاس ان کی طرف سے رپورٹ آجاتی ہے، حالانکہ رپورٹوں کی مثال تو ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ہماری پنجابی زبان میں کہتے ہیں۔آپے میں رجی پیچی آپے میری بچے جیون بھلا رپورٹوں میں یہ لکھ لینا کیا مشکل ہے کہ فلاں صاحب نے یہ کام کیا اور فلاں صاحب نے وہ کام کیا۔اگر اس طرح کی خدمات ہم گنے لگ جائیں تو ہر شخص اپنی خدمات کی تعداد جتنی چاہے بڑھالے گا اور یہ سمجھے گا کہ اس نے بہت بڑا کام کیا۔حالانکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ کام ایسا ہو گا جسے کسی صورت میں بھی خدمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔مثلاً ہر قدم جو تم اٹھاتے ہو اس کے اٹھاتے وقت تمہارے پیروں کے نیچے ضرور چونٹیاں آجاتی ہیں۔آج کل کے موسم میں تو خصوصیت سے چیونٹیاں زیادہ پیدا ہو جاتی ہیں۔اس لئے آج کل تو بالعموم ہر شخص کے پاؤں کے نیچے کچھ نہ کچھ چیونٹیاں ضرور آجاتی ہیں۔پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ بات ہے کہ تم قدم پاس پاس نہیں رکھ سکتے