سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 2

۲ متواتر امام بنائے جانے کی درخواست کرتے ہیں اور دوسری طرف مکہ سے تعلق رکھنے والے سلسلہ کے متعلق یوں دعا فرماتے ہیں۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمُ کہ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہاں انہوں نے صرف ایک رسول مبعوث کئے جانے کی کیوں دعا کی۔جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک رسول کافی نہیں ہوتا۔بلکہ دنیا ہمیشہ رسولوں کی محتاج رہتی ہے اور اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ میری امامت کبھی اچھے نتیجے پیدا نہیں کر سکتی۔جب تک میری اولاد میں سے بھی امام نہ ہوں اور جب تک ہدایت کا وہ بیچ جو میرے ہاتھوں سے بویا جائے اس کا بعد میں بھی نشو ونما نہ ہوتا رہے۔میں تو امام ہو گیا لیکن اگر بعد میں دنیا گمراہ ہوگئی تو میری امامت کیا نتیجہ پیدا کرے گی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آپ کی ذریت سے تعلق رکھنے والے اماموں میں سے ایک امام ہیں۔ان کے متعلق بھی قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ قیامت کے دن جب خدا تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ تیری قوم جس شرک میں مبتلا ہوئی کیا اس کی تو نے لوگوں کو تعلیم دی تھی اور کیا تو نے یہ کہا تھا کہ میری اور والدہ کی پرستش کرو تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ (المائدة آيت ۱۱۸) کہ جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا مگر جب مجھے وفات دے دی گئی تو حضور پھر میں کیا کر سکتا تھا اور مجھے کیونکر معلوم ہوسکتا تھا کہ میری قوم بگڑ گئی ہے۔گویا حضرت عیسی علیہ السلام بھی یہ امر تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کا اثر ایک عرصہ تک ہی چلتا ہے اس کے بعد اگر قوم بگڑ جاتی ہے تو كُنتُ اَنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ خدا تعالیٰ کو ان کی ہدایت کا کوئی اور سامان کرنا پڑتا ہے۔یہ بھی تصدیق ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کی کہ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی یعنی میری ذریت میں سے بھی ایسے لوگ ہونے چاہیں۔ورنہ دنیا کی ہدایت قائم نہیں رہ سکتی۔تو حضرت عیسی علیہ السلام کا بیان ایک اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا دو۔یہ اس بات کے شاہد ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی کہ دنیا میں ہدایت کے قیام کے لئے متواتر اماموں کا ہونا ضروری ہے۔جب متواتر اماموں کا ہونا ضروری ہے اور اس کے بغیر ہدایت قائم نہیں رہ سکتی تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی