سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 3
اس دعا کے کیا معنی ہوئے که رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمُ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج۔پھر تو انہیں یہ دعا مانگنی چاہئے تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُلاً مِّنْهُمْ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُوْنَهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّوْنَهُمُ کہ اے میرے رب ان میں بہت سے انبیا ھیچیو۔جو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر انہیں سنائیں اور تیری شریعت کے احکام اور ان کی حکمتیں انہیں بتا ئیں اور انہیں اپنی قوت قدسیہ سے پاک کرتے رہیں۔مگر وہ تو یہی دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمُ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وہ تیری آیتیں پڑھے نہ کہ پڑھیں وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَة اور وہ ان کو کتاب اور حکمت سکھائے نہ کہ سکھائیں۔وَيُزَکیهِمُ اور وہ ان کو پاک کرے۔نہ کہ پاک کریں۔مگر خود ہی دوسرے موقعہ پر دعا کے ذریعہ اس امر کا اقرار کر چکے ہیں کہ میری نبوت کافی نہیں ہوسکتی۔جب تک میری اولاد میں سے بھی انبیاء نہ ہوں اور جب تک نبیوں کا ایک لمبا سلسلہ دنیا میں قائم نہ ہو۔اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کیوں دعا کی کہ ان میں ایک نبی مبعوث کی جیو۔یہ ایک سوال ہے۔جس کو اگر ہم قرآن کریم سے ہی حل نہ کر سکیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر خطر ناک الزام آتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی دعا کی جس سے دنیا کو ہدایت کامل نہیں مل سکتی تھی اور دنیا کے لئے نور کا ایک رستہ کھولتے ہوئے انہوں نے اسے معا بند کر دیا۔یہ تو کہا جاسکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذہن آگے کی طرف گیا ہی نہیں۔انہوں نے صرف یہ چاہا کہ میرے بعد ایک نبی آجائے اور آئندہ کے متعلق وہ خود دعا کرتا رہے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری دعا نے بتا دیا کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا اور انہوں نے اس کے متعلق دعا بھی کی۔چنانچہ فرمایا ومن ذریتی کہ میری اولاد میں سے بھی ائمہ ہوتے رہیں۔تو یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بعد کے زمانہ کی ضروریات کی طرف ذہن ہی نہیں گیا بالکل غلط ہے کیونکہ ان کی دوسری دعا نے بتا دیا کہ انہیں قیامت تک لوگوں کی ہدایت کا خیال تھا اور جب انہیں اس امر کا خیال تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ائمہ کا ہمیشہ آتے رہنا ضروری ہے۔تو پھر اس دعا پر انہوں نے کیوں کفائت کی کہ خدایا ان