سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 1

مجلس انصار اللہ کا قیام سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے متعلق ایک دعا کی تھی جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اور وہ دعا یہ تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ (البقره آیت ۱۳۰) اے میرے رب! تو ان میں ایک نبی مبعوث فرما۔جس کا کام یہ ہو کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وہ تیری آیتیں انہیں پڑھ کر سنائے وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ اور شریعت کے احکام اور ان کی حکمتیں انہیں سمجھائے۔وَيُزَكِّيهِمُ اور انہیں پاک کرے بایز تیمم کے دوسرے معنوں کے مطابق انہیں ادنیٰ حالتوں سے ترقی دیتے دیتے اعلیٰ مقامات تک پہنچا دے۔یہ دعا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی ہے اس کے مقابل انہوں نے اپنی اولاد کے متعلق ایک عام دعا بھی کی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے بعض احکام کی انہوں نے فرمانبرداری کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خدمت کو قبول کیا اور فرمایا کہ ہم تم کو امام بناتے ہیں تو انسی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا کی خبر سنتے کے بعد انہوں نے فرمایا وَ مِن ذُرِّيَّتِى (البقرہ آیت ۱۲۵) میری امامت تو میرے زمانہ کے لوگوں تک ختم ہو جائے گی لیکن دنیا تو اماموں کی ہمیشہ محتاج رہے گی اور جب دنیا ہمیشہ اماموں کی محتاج رہے گی تو اے خدا میری ذریت میں سے بھی امام مقرر کئے جائیں۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کوئی نبی ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا کے لئے رہبر نہیں رہ سکتا۔بلکہ بار بار خدا کی طرف سے امام آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اب ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار امام آنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی اولاد میں سے