سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 34
۳۴ جماعت کی دینی تعلیم کے لئے مجلس انصاراللہ کی ذمہ داری سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج دوست معمول سے زیادہ تعداد میں جمع ہیں اور مستورات بھی پہلے سے زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔کیونکہ ان کی طرف سے اس قدر شور و ہنگامہ کی آواز میں آرہی ہیں کہ غالباً دائیں طرف ہیں۔کیونکہ ان کی طرف کے ایک حصہ کے لئے خطبہ کا سننا بالکل ناممکن ہو جائیگا۔یہ اجتماع ہمارے عام محاورہ کے مطابق رمضان کو وداع کرنے کے لئے ہے۔چنانچہ آپ لوگوں میں سے کئی تو وہ ہیں جنہوں نے رمضان کا استقبال کیا اور پھر رمضان کی صحبت میں مہینہ بھر رہے اور اس کی برکتوں کو انہوں نے حاصل کیا وہ آج اس شوق سے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ جس مہینہ نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا ہے آؤ ہم اس کو رخصت بھی کریں تا وہ ہماری محبت کے جذبہ کو دیکھ کر ہمیں اپنی برکتوں سے پھر بھی حصہ دے اور اپنی روحانی نعمتوں سے ہمیں پھر مالا مال کرے۔مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے رمضان کا استقبال نہیں کیا تھا اور نہ انہوں نے اس کی برکات سے کوئی فائدہ اٹھایا وہ بھی آج اس مہینہ کو رخصت کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔مگر ان کا آنا بالفاظ دیگر اس لئے ہے کہ وہ رمضان سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا جو تم جار ہے ہو۔تمہارے آنے کی وجہ سے ہم مصیبت میں پھنس گئے تھے اور ہمیں خواہ مخواہ لوگوں کی شرمندگی سے بچنے کے لئے بھوکا اور پیاسا رہنا پڑتا تھا اب اچھا ہوا جو تم جارہے ہو اور ہمیں اس بلا سے نجات ملی۔دونوں قسم کے لوگ اپنی اپنی نیتوں کے مطابق پھل کھالیں گے۔وہ جس نے رمضان کو پایا اور اس کی برکات سے اس نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اس کا وداع برکت والا وداع ہے اور وہ ایسا ہی وداع ہے جیسے ایک دوست دوسرے دوست کو الوداع کہتا ہے۔اس کا وداع کرنے جاتا ہے تا اس کا دوست اس پر پھر بھی مہربان رہے اور وہ پھر بھی اس کے پاس آتا رہے۔مگر وہ جنہوں نے رمضان سے تو کوئی فائدہ نہیں اٹھایا مگر آج اسے وداع کرنے کے لئے آگئے ہیں۔ان کے وداع کے معنے یہ ہیں کہ اچھا ہوا جو تجھ سے چھٹکارا حاصل