سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 33
٣٣ ہیں۔حالانکہ وہ اصل میں چھوٹی ہوتی ہیں اور بعض باتیں وقتی فتنہ کے لحاظ سے چھوٹی ہوتی ہیں۔حالانکہ اصل میں بڑی ہوتی ہیں۔پس وقتی فتنہ کے لحاظ سے کبھی بڑی بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور چھوٹی بات پر ایکشن لے لیا جاتا ہے۔مگر ان لوگوں نے کبھی عقل سے کام نہیں لیا۔ان کا مقصد صرف اعتراض کرنا ہوتا ہے لیکن میں کہتا ہوں اگر وہ ہماری اس تنظیم کو دیکھ کر برا مناتے ہیں تو تم انہیں برا منانے دو اور خود سلسلہ کے لئے ہر قسم کی قربانیوں میں بڑھتے چلے جاؤ۔خدا تعالیٰ تم سے یہ بھی نہیں کہے گا کہ تم نے ان کا دل کیوں دکھایا بلکہ وہ تم پر خوش ہوگا اور تمہیں ثواب دے گا۔بے شک ہم چاہتے ہیں کہ وہ حسد کی آگ میں نہ جلیں۔بلکہ جس جنت کے ہم وارث ہیں اسی جنت کے وہ وارث بن جائیں لیکن اگر انہیں اس جنت میں داخل ہونے کی توفیق نہیں ملی تو گو ہم پھر بھی یہی دعا کریں گے کہ خدا انہیں ایمان نصیب کرے لیکن اگر انہیں ایمان نصیب نہ ہو تو ہم ان کے لئے اپنا ایمان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔( خطبه فرموده ۲۳ را گست ۱۹۴۰ء۔بحوالہ الفضل مورخ ۱۳ ستمبر ۱۹۶۱ء)