سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 35

۳۵ ہوا۔ان دونوں قسم کے آدمیوں کو ان کی نیتوں کے مطابق بدلہ ملے گا۔وہ جو پہلا گر وہ ہے جس نے رمضان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور جو محبت اور اخلاص کے جذبات کے ساتھ اسے وداع کرنے کے لئے آیا اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے دعا کریں گے اور کہیں گے خدا تجھے اور بھی کئی رمضان نصیب کرے اور تجھے توفیق دے کہ تو اس کی برکتوں سے فائدہ حاصل کرے۔مگر وہ آج رمضان کو اس نیت سے الوداع کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ انہیں ایک مصیبت سے نجات ملی۔ان کو آج کی نماز کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی کیونکہ وہ رمضان کی عزت کرنے نہیں بلکہ اس کی ہتک کرنے کے لئے آئے ہیں۔اس کے بعد میں ایک اور امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ چند دن ہوئے ہماری جماعت کے ایک دوست نے مجھے ایک خط لکھا، جس کا مضمون یہ تھا کہ میں بازار میں سے گذر رہا تھا کہ مجھے ایک مخالف شخص نے کچھ ٹریکٹ دینے چاہئے جن کے لینے سے میں نے انکار کر دیا۔لیکن اس نے اصرار کیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو چاہئے کہ ہماری باتوں کو سنیں اور ٹریکٹ لینے سے انکار نہ کریں۔اس دوست نے لکھا ہے کہ مجھے ایک عام اعلان کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو ایسے لوگوں کا لٹریچر پڑھنے سے روک دینا چاہئے کیونکہ اس طرح جماعت کا کمزور طبقہ متاثر ہوتا ہے اور خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔میں اس بارہ میں پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ میرے نزدیک پبلک جگہوں میں یا ایسے مقامات میں جہاں کسی خاص قوم کو کوئی امتیازی حق حاصل نہ ہو اس کا کوئی جتھہ نہ ہو اور بظاہر امن میں خلل واقع ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہو، ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کو پھیلانے کا حق رکھتا ہے اوراگر ہم اسے روک دیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ بیرونی مقامات میں جب ہمارا کوئی احمدی ٹریکٹ وغیرہ تقسیم کرنے لگے اور دوسرے لوگ اسے روک دیں یا ٹریکٹ لینے سے انکار کر دیں تو وہ بھی اپنے رویہ میں حق بجانب سمجھے جائیں۔حالانکہ اگر کسی جگہ ہمارا کوئی احمدی اپنے ٹریکٹ تقسیم کرتا ہے اور لینے والا نہیں لیتا تو یہ امر اس کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔مگر بہر حال ہم غیروں کو اپنے ٹریکٹ دیتے ہیں اور جب دیتے ہیں تو جو حق ہمیں حاصل ہے وہی حق دوسروں کو بھی حاصل ہونا چاہئے۔مذہب دنیا میں امن پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں فساد پیدا کرنے کے لئے نہیں آتے اور اگر ہم ایک بچے مذہب پر قائم ہیں تو لازماً ہمیں دنیا کو وہ حریت اور آزادی دینی ہوگی جس کے بغیر دنیا کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔یہ تو لینے والے کا اختیار ہے نا۔وہ چاہے تو لے اور چاہے تو نہ لے۔مثلا فرض کرو کسی کے ہاتھ میں پہلے ہی بہت سی کتابیں