سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 32

۳۲ ہے تو اس اعتراض کے معنے کیا ہوئے کہ حریت اور آزادی ضمیر کو کچل دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نظام کی درستی کے لئے اتحاد خیالات کا ایک دائرہ ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک اختلاف بڑا نظر آئے لیکن اگر وہ کسی فتنے کا موجب نہ ہو تو اس اختلاف رکھنے والے کو جماعت میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے لیکن ایک دوسرا شخص خواہ اس سے کم اختلاف رکھتا ہو لیکن اس کا اختلاف کسی فتنے کا موجب ہو تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ ایک دوست نے پوچھا کہ میں ابھی شیعیت سے نکل کر آیا ہوں اور حضرت علی کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ سے افضل سمجھتا ہوں۔پس کیا اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے میں آپ کی بیعت کر سکتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں لکھا کہ آپ بیعت کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ چند آدمیوں کو قادیان سے باہر چلے جانے کا حکم دے دیا اور ان کے بارہ میں اشتہار بھی شائع کیا۔مگر وجہ صرف یہ تھی کہ وہ پنجوقتہ نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شعل رہتا تھا۔اب بتاؤ حضرت علی کو حضرت ابو بکڑ سے افضل سمجھنے اور حقہ پینے میں سے کون سی بات بڑی ہے۔لازما ہر شخص یہ کہے گا کہ حضرت علی کو حضرت ابو بکر سے افضل سمجھنا بڑی بات ہے اور حقہ پینا چھوٹی بات ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بڑا اختلاف رکھنے کے باوجود ایک شخص کو اپنی بیعت کی اجازت دے دی اور حقہ پینے اور جنسی ٹھٹھا میں مشغول رہنے پر دوسروں کو مرکز سے چلے جانے کی ہدایت فرمائی۔حالانکہ ایک دعوت کے موقع پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا انتظام کیا تھا۔چنانچہ ترکوں کا سفیر حسین کا می جب قادیان میں آیا اور اس کے لئے دعوت کا انتظام کیا گیا تو جماعت کے خرچ پر اس کے لئے سگار اور سگریٹ منگوائے گئے۔میں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مجلس میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے ذکر کیا کہ یہ لوگ سگریٹ کے عادی ہوتے ہیں، اگر ہم نے کوئی انتظام نہ کیا تو اسے تکلیف ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی ہرج نہیں اس کے لئے سگریٹ منگوا لئے جائیں۔کیونکہ یہ ایسی حرام چیزوں میں سے نہیں جیسے شراب وغیرہ ہوتی ہے۔پس آپ نے وہ چیز جو اس قسم کی حرمت نہیں رکھتی جیسے شراب اپنے اندر حرمت رکھتی ہے، استعمال کرنے پر تو ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیا اور وہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں حضرت ابوبکر سے حضرت علی کو افضل سمجھتا ہوں۔باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت ابوبکر حضرت علیؓ سے افضل ہیں، اسے بیعت کرنے کی اجازت دے دی۔در حقیقت بعض باتیں وقتی فتنہ کے لحاظ سے بڑی ہوتی