سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 185
۱۸۵ امریکہ کی تاریخ کو لے لو، فرانس کی تاریخ کو لے لو، جرمنی کی تاریخ کو لے لو، جاپان کی تاریخ کو لے لو، روس کی تاریخ کو لے لو، جب کبھی بھی میزانیہ پر اعتراض ہوا ہے تو اس کے اسی حصہ پر ہوا ہے جو تنظیم کے لئے خرچ ہوا ہے کیونکہ یہ اخراجات نظر نہیں آتے۔پس نظر آنے والا خرچ لوگوں میں مزید چندہ دینے کی تحریک پیدا کرتا ہے۔اگر تم اس جگہ کو زیادہ سے زیادہ اعلیٰ بناتے جاؤ گے تو خدام میں چندہ کی تحریک ہوتی رہے گی مثلاً میدان کو چھوڑ کر دیواروں کے ساتھ ساتھ پھول لگائے جائیں۔چونکہ اس جگہ پر تمہیں سالانہ اجتماع بھی کرنا ہوگا اس لئے تم چمن تو بنا نہیں سکتے لیکن دیواروں کے ساتھ ساتھ پھول لگائے جاسکتے ہیں۔اس طرح نظارہ اور زیادہ خوبصورت بن جائے گا۔پھر بیچ میں چند فٹ کی سڑک رکھ کر اس کے ارد گر د بھی پھول لگائے جاسکتے ہیں۔جب خدام آئیں گے اور اس جگہ کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے ہمارا روپیہ صیح طور پر استعمال ہوا ہے۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کے لئے دعا کروں گا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہیں جلد مرکز بنانے کی توفیق دے دی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے ابھی مرکز بنانے کی کوشش نہیں کی۔دنیا میں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بوڑھے تجربہ کار ہوتے ہیں لیکن ہماری جماعت یہ مجھتی ہے کہ بڑھے بیکار ہوتے ہیں اور بیکار کا کوئی کام نہیں۔اس لئے انصار اللہ یہ مجھتے ہیں کہ اگر وہ کوئی کام نہیں کرتے تو وہ اپنے عہدے کے مطابق کام کرتے ہیں۔قادیان میں بھی انصار اللہ نے زیادہ کام نہیں کیا اور اب یہاں بھی انصار اللہ کام نہیں کرتے۔شاید یہ چیز ہو کہ صدر انجمن احمدیہ کے بڑے بڑے افسر اس مجلس کے عہدیدار ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں صدر انجمن احمدیہ کے کاموں سے فرصت نہیں۔بہر حال انصار اللہ کو بھی چاہئے تھا کہ وہ اپنا مرکز بناتے لیکن انہوں نے ابھی اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ غلط خیال ہے کہ چونکہ قادیان واپس ملنا ہے اس لئے ہمیں یہاں کوئی جگہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ایک صاحب یہاں ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں۔ان سے جب بھی کوئی بات پوچھی جائے وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے قادیان واپس جانا ہے اس لئے یہاں مکان بنانے کی کیا ضرورت ہے۔انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ قادیان کے لئے جو پیشگوئیاں ہیں وہ مکہ کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں ان سے زیادہ نہیں لیکن کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ واپس گئے ؟ ہم تو یہ امید رکھتے ہیں کہ ہم قادیان واپس جائیں گے اور وہی ہمارا مرکز ہوگا لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ سے مدینہ چلے گئے تو مکہ میں واپس نہیں آئے۔حالانکہ مکہ فتح ہو گیا تھا آپ نے مدینہ کو چھوڑا نہیں۔پھر بعد میں مدینہ ہی حکومت کا مرکز بنا اور وہیں سے اسلام اردگرد پھیلنے لگا۔مکہ صرف حج کے لئے رہ گیا۔مکہ صرف اعتکاف کی جگہ بن گئی۔یا جولوگ اپنی