سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 184

۱۸۴ ہو۔بارہ کنال کی چار دیواری پر اڑھائی تین ہزار روپیہ خرچ آئے گا بلکہ اس سے بھی کم اخراجات میں چار دیواری بن جائے گی۔اس موقع پر محترم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے فرمایا پتھروں کی چار دیواری بارہ سو روپیہ میں بن جاتی ہے ) اس پر حضور نے فرمایا میرے مکان کی چار دیواری کولیا جائے تو یہ اندازہ بہت کم ہے۔اتنی رقم میں چاردیواری نہیں بن سکتی۔(صاحبزادہ صاحب نے عرض کیا۔حضور اس رقم میں صرف چارفٹ اونچی چار دیواری بنے گی ) حضور نے فرمایا: ہاں اگر چارفٹ اونچی چار دیواری بنائی جائے تو اتنی رقم میں کام ہوسکتا ہے لیکن چارفٹ اونچی چار دیواری سے پردہ نہیں ہوتا۔بہر حال اگر چار دیواری بن جائے تو مرکز کا اثر بیرونی مجالس پر بڑھ جائے گا۔عورتوں کے متعلق مجھے تجربہ ہے کہ جب وہ کوئی بنی ہوئی چیز دیکھتی ہیں تو پہلے سے بڑھ کر روپیہ خرچ کرتی ہیں اور نو جوانوں میں تو یہ سپرٹ زیادہ ہونی چاہئے۔جب سالانہ اجتماع ہو گا خدام باہر سے آئیں گے اور چاردیواری بنی ہوئی دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ ان کا روپیہ نظر آنے والی صورت میں لگ رہا ہے اور ان کا جوش بڑھ جائے گا۔دفاتر میں جو روپیہ لگتا ہے وہ انہیں نظر نہیں آتا۔اگر تم کہو کہ دفتر میں کاغذ ، سیاہی، قلم، پنسل اور کارکنوں کی تنخواہوں پر روپیہ صرف ہوتا ہے، تو چونکہ یہ خرچ انہیں نظر نہیں آتا۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا روپیہ صیح طور پر خرچ نہیں کیا جاتا۔تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو روپیہ تنظیم پر خرچ ہوتا ہے، وہ نظروں سے پوشیدہ ہوتا ہے۔اس لئے قوم کی طرف سے جب بھی کوئی اعتراض ہوتا ہے تو وہ تنظیم سے متعلقہ اخراجات پر ہی ہوتا ہے اور کسی چیز پر نہیں مثلاً وہ کہیں گے تم پر کسی قدر روپیہ خرچ ہوا ہے۔ہسپتالوں پر کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے۔غریبوں کی امداد کے لئے کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے۔غرباء کے وظائف پر کس قدر رقم خرچ ہوئی ہے اور اگر انہیں یہ بتایا جائے کہ کام کو چلانے کے لئے اتنے سیکرٹریوں کی ضرورت ہے، پھر دفتری اخراجات کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے، سفر خرچ کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے، تو وہ کہیں گے ہمارا روپیہ ضائع ہو گیا۔اگر چہ ایسا اعتراض کرنا حماقت ہوتا ہے۔کیونکہ سب سے اہم چیز مرکزیت ہوتی ہے لیکن واقع یہی ہے کہ ہمیشہ ان اخراجات پر اعتراض کیا جاتا ہے۔تم انگلستان کی تاریخ کو لے لو،