سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 186
۱۸۶ زندگیاں وقف کر کے مکہ چلے جاتے تھے ان کی جگہ رہی۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہی رہے اور وہیں آپ فوت ہوئے۔خدا تعالیٰ کیا کرے گا۔آیا اس کے نزدیک ہمارا یہاں رہنا بہتر ہے یا قادیان واپس جانا بہتر ہے، ہمیں اس کا علم نہیں۔پس یہ حماقت کی بات ہے کہ محض ان پیشگوئیوں کی وجہ سے جو کسی جگہ کے تقدس پر دلالت کرتی ہیں جب کہ ان پیشگوئیوں سے زیادہ پیشگوئیاں دوسری جگہ کے متعلق موجود تھیں اور خدا تعالیٰ نے انہیں کسی اور شکل میں پورا کیا تھا، ہم یہ خیال کر لیں کہ ہمیں کسی اور جگہ کی ضرورت نہیں۔اگر بڑی جگہ کے لئے جو پیشگوئیاں تھیں وہ ظاہری رنگ میں پوری نہیں ہوئیں تو چھوٹی جگہ کے لئے یہ کیوں ضروری خیال کر لیا گیا ہے کہ اس کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ ظاہری رنگ میں ہی پوری ہوں گی۔قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ وہی آیات ہیں جو مکہ کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔وہ آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دوبارہ نازل ہوئی ہیں اور جب وہ پیشگوئیاں مکہ کے لئے بھی ظاہری رنگ میں پوری نہیں ہوئیں تو ہم کیا لگتے ہیں کہ یہ کہیں کہ قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ ظاہری رنگ میں پوری ہوں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مکہ تشریف نہیں لے گئے بلکہ مدینہ میں ہی مرکز بنا کر کام کرتے رہے۔صرف آپ حج کے لئے مکہ تشریف لے جاتے تھے اور حج کر کے واپس تشریف لے آتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر واپس مکہ نہیں گئے ، حضرت عمرؓ واپس مکہ نہیں گئے ، حضرت عثمان واپس مکہ نہیں گئے ، حضرت علی واپس مکہ نہیں گئے۔یہ سب حج کے لئے مکہ جاتے تھے اور واپس آ جاتے تھے۔حکومت کا مرکز مدینہ ہی رہا اور یہیں سے اسلام اردگرد کے علاقوں میں پھیلا۔پس جب پیشگوئیوں سے کسی جگہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے تو یہ سمجھ لینا کہ یہ پیشگوئیاں ضرور ظاہری رنگ میں پوری ہوں گی، حماقت ہے۔چاہے بعد میں وہ پیشگوئیاں ظاہری رنگ میں ہی پوری ہو جائیں لیکن مومن کا یہ کام ہے کہ جس چیز میں خدا تعالیٰ نے اُسے اب رکھا ہے، اس میں وہ راضی رہے۔خدا تعالیٰ کا معاملہ جو ہمارے ساتھ ہے وہ کتنا عجیب ہے۔ایک چور سیندھ لگاتا ہے اور پھر توبہ کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ دوسرے دن پھر سیندھ لگائے گا۔پھر وہ دوسرے دن سیندھ لگاتا ہے اور پھر تو بہ کرتا ہے، تو خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ پھر سیندھ لگائے گا۔پس خدا تعالی با وجود اس کے کہ وہ علم غیب رکھتا ہے، ہمارے ساتھ رحم کا معاملہ کرتا ہے لیکن ہم لوگ با وجود علم غیب نہ ہونے کے خدا تعالیٰ کے ساتھ مستقبل والا معاملہ کرتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ بھی ہمارے ساتھ مستقبل والا معاملہ کرے، تو چونکہ اسے علم ہے کہ مجرم دوبارہ جرم کرے گا اسے علم غیب حاصل ہے، اس لئے کسی کی