سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 183

۱۸۳ انصار اللہ کو مرکز بنانے کی ہدایت دفتر خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے افتتاح کے موقع پر انصار اللہ کو ہدایت تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جس وقت یہ زمین خریدی گئی تھی ، اس وقت میں نے تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ سے جو اس زمین کے خریدار تھے، یہ خواہش کی تھی کہ وہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے لئے بھی ایک ایک ٹکڑا وقف کریں۔چنانچہ بارہ بارہ کنال زمین دونوں کے لئے وقف کی گئی۔بارہ کنال زمین کے یہ معنی ہیں کہ ۶۵ ہزار مربع فٹ کا رقبہ ان کے پاس ہے۔اگر اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ بہت بڑے کام آ سکتا ہے۔مثلاً اس کے اردگرد چار دیواری بنالی جائے تو آئندہ سالانہ اجتماع ، بجائے اس کے کہ کسی اور میدان میں کیا جائے ، بڑی عمدگی کے ساتھ اس جگہ ہو سکتا ہے۔۶۵ ہزار مربع فٹ زمین میں سے اگر عمارتوں اور سڑکوں کو نکال لیا جائے مثلاً عمارتوں اور سڑکوں کے لئے ۶۵ ہزار مربع فٹ زمین نکال لی جائے تو چالیس ہزار مربع فٹ زمین باقی بچتی ہے اور دس دس فٹ زمین ایک آدمی کے لئے رکھ لی جائے ، بلکہ ۱۵۔۵افٹ زمین بھی ایک آدمی کے لئے رکھ لی جائے تو تو چالیس ہزارفٹ زمین میں اڑھائی تین ہزار آدمی سوسکتا ہے اور اتنے نمائندے ہی اجتماع میں ہوتے ہیں۔پھر اگر زیادہ نمائندے آجائیں تو سڑکوں وغیرہ کے لئے زمین کو محدود کیا جاسکتا ہے۔پھر پاس ہی انصار اللہ کا دفتر ہوگا، اگر دونوں مجالس کے سالانہ اجتماع ایک ہی وقت میں نہ ہوں تو ۲۴ کنال زمین استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔انہیں ضرورت ہو تو تم اپنی جگہ انہیں دے دو اور تمہیں ضرورت ہو تو وہ اپنی جگہ تمہیں دے دیں۔اس طرح مقامی جگہ کی عظمت قائم ہو سکتی ہے۔پس میرے نزدیک آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ کسی نہ کسی قسم کی چار دیواری اس زمین کے ارد گرد ہو جائے خواہ وہ چار دیواری لکڑیوں کی ہی کیوں نہ