سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 168
۱۶۸ احمدیت کی محبت اور محنت کی عادت پیدا کرنے کے ذرائع پر غور کریں مجالس انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ مشورہ دیں (اقتباس از خطبه جمعه ) احمدیت کی محبت ، اخلاص اور تربیت جھگڑوں سے روکتی ہے مگر لوگ معمولی معمولی بات پر جھگڑتے ہیں۔عہدوں پر جھگڑ کر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ سارا نقص اس وجہ سے ہے کہ احمدیت کی محبت دل میں نہیں۔اگر احمدیت کی محبت ہوتی تو کچھ بھی ہو جاتا وہ اس کی پروا نہ کرتے۔یہ لوگ ہسپتالوں میں جاتے ہیں، عدالتوں میں جاتے ہیں، کہیں ان کو چپڑاسی تنگ کرتے ہیں، کہیں ان کو کمپونڈ ر دق کرتے ہیں، یہ ان ساری ذلتوں کو برداشت کرتے ہیں۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے عزیز کی جان یا ہماری عزت خطرے میں ہے۔اگر اسلام کی جان اور اسلام کی عزت کی قدر ان کے دل میں ہوتی تو یہ آپس میں ذرا ذراسی بات پر کیوں جھگڑتے۔تو فرق یہی ہے کہ اپنے عزیز کی جان یا اپنی عزت ان کو زیادہ پیاری ہے۔اس لئے کچہریوں یا ہسپتالوں میں مجسٹریٹوں یا ڈاکٹروں کی جھڑکیاں کھاتے ہیں اور ان کو برداشت کرتے ہیں۔ان سے گالیاں سنتے ہیں اور ہنستے ہوئے کہتے چلے جاتے ہیں کہ حضور ہمارے مائی باپ ہیں۔جو چاہیں کہہ لیں۔مگر خدا کے سلسلہ اور خدا کے نظام میں معمولی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔وہاں ہسپتالوں میں دایاں اور نرسیں ان کو جھڑکتی ہیں۔ڈاکٹر حقارت سے کہتا ہے چلے جاؤ۔تو یہ دروازہ کے پاس جا کر چھپ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس کو نا راض کیا۔تو میرے عزیز کی جان خطرہ میں پر جائے گی لیکن ان کو احمدیت عزیز نہیں ہوتی۔اسلام عزیز نہیں ہوتا۔اس لئے سلسلہ اور نظام کی خاطر ادنی سا بر اکلمہ سننے کی تاب نہیں رکھتے۔