سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 169
۱۶۹ دوسری چیز محنت ہے اگر واقعہ میں احمدیت کی محبت ہوتی تو ضرور نو جوانوں کے اندر محنت کی عادت ہوتی۔مگر ان کے کاموں میں محنت اور باقاعدگی سے کام کرنے کی عادت بالکل نہیں اور اگر کوئی کسی کو اچھی بات بھی کہہ دے تو وہ چڑ جاتا ہے کہ اس نے مجھے ایسی بات کیوں کہی۔پس میں پھر ایک دفعہ خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مشورہ کر کے میرے سامنے تجاویز پیش کریں۔میں نے بھی اس پر غور کیا ہے اور بعض تجاویز میرے ذہن میں بھی ہیں لیکن پہلے میں جماعت کے سامنے اس بات کو پیش کرتا ہوں کہ وہ مشورہ دیں کہ آئندہ نسلوں میں قربانی اور محنت اور کام کو بر وقت کرنے کی روح پیدا کرنے کے لئے ان کی کیا تجاویز ہیں۔مگر یہ شرط ہے کہ جو شخص تجویز پیش کرے وہ اپنی اولاد کو پہلے پیش کرے۔بعض لوگ لکھنے کو تو لکھ دیتے ہیں کہ اس طرح سلوک کیا جائے ، اس طرح نو جوانوں پر سختی کی جائے، مگر جب خودان کے بیٹوں کے ساتھ سختی کی جائے تو شور مچانے لگ جاتے ہیں۔تو جو شخص اپنی تجاویز لکھے وہ ساتھ یہ بھی لکھے کہ میں اپنی اولاد کے متعلق سلسلہ کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ جو قانون بھی بنائیں میں اپنی اولاد کے ساتھ اس سلوک کو جائز سمجھوں گا۔اسی طرح خدام الاحمدیہ آپس میں مشورہ کر کے مجھے بتائیں کہ نوجوان کام کے موقعہ پر سو فیصدی فیل ہو جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ مشکل پیش آ گئی اس لئے کام نہیں ہو سکا۔وہ نوے فی صدی بہانہ اور دس فیصدی کام کرتے ہیں۔یہ حالت نہایت خطرناک ہے اس کو دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پس خدام مجھے بتائیں کہ نوجوانوں کے اندر محنت سے کام کرنے ، اور فرائض کو ادا کرنے میں ہر قسم کے بہانوں کے چھوڑنے کی عادت کس طرح پیدا کی جائے۔مشورہ کے بعد ان تجاویز پر غور کر کے ، پھر میں تجاویز کروں گا اور جماعت کے نو جوانوں کو ان کا پابند بنایا جائے گا۔پہلے اسے اختیاری رکھیں گے تا کہ یہ دیکھا جائے کہ کون کون سے ماں باپ ہیں جو اپنے بچوں کو سلسلہ کی تعلیم دلانا اور ان کی تربیت کرانا چاہتے ہیں اور جس وقت ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے اور ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا طریق درست ہے تو پھر دوسرا قدم ہم یہ اٹھائیں گے کہ اسے لازمی کر دیا جائے۔بہر حال یہ کام ضروری ہے۔اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو احمدیت کی مثال اس دریا کی ہوگی جو ریت کے میدان مین جا کر خشک ہو جائے اور جس طرح بعض بڑے بڑے دریا صحراؤں میں جا کر اپنا پانی خشک کر دیتے ہیں۔پانی تو ان میں اسی طرح آتا ہے مگر صحرا میں جا کر خشک ہو جاتا ہے۔چھوٹی چھوٹی نالیاں پہاڑوں سے گذرتی ہوئی میلوں میل تک چلی جاتی