سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 118
۱۱۸ وجہ سے انہیں طاقت حاصل ہو گئی۔اب دیکھ لو۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام کی ہی طاقت تھی کہ آپ نے اعلان فرما دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔بس حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے ساری عیسائیت مرگئی۔اب یہ کتنا صاف مسئلہ تھا مگر کسی اور مولوی کو نظر نہ آیا۔سارے علماء کتابیں پڑھتے رہے۔لیکن ان میں سے کسی کو یہ مسئلہ نہ سوجھا اور وہ حیران تھے۔کہ عیسائیت کا مقابلہ کیسے کریں۔حضرت مرزا صاحب نے آکر عیسائیت کے زور کو توڑ دیا۔اور وفات مسیح کا ایسا مسئلہ بیان کیا کہ ایک طرف مولویوں کا زور ٹوٹ گیا۔تو دوسری طرف عیسائی ختم ہو گئے۔بھیرہ میں ایک غیر احمدی حکیم الہ دین صاحب ہوتے تھے۔وہ اپنے آپ کو حضرت خلیفہ اسیح اول سے بھی بڑا حکیم سمجھتے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی حکیم فضل دین صاحب انہیں ملنے کے لئے گئے اور انہوں نے چاہا کہ وہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کریں۔حکیم الہ دین صاحب بڑے رعب والے شخص تھے وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے۔تو کل کا بچہ ہے اور مجھے تبلیغ کرنے آیا ہے۔تو احمدیت کو کیا سمجھتا ہے۔میں اسے خوب سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے اپنی مشہور کتاب براہین احمدیہ کھی جس سے اسلام تمام مذاہب پر غالب ثابت ہوتا تھا۔مگر مولویوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔حضرت مرزا صاحب کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا۔اچھا تم بڑے عالم بنے پھرتے ہو۔میں حضرت عیسی علیہ السلام کو قرآن کریم سے فوت شدہ ثابت کر دیتا ہوں تم اسے زندہ ثابت کر کے دکھاؤ۔گویا آپ نے یہ مسئلہ ان مولویوں کو ذلیل کرنے کے لئے بیان کیا تھا۔ورنہ در حقیقت آپ کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔پھر حکیم صاحب نے ایک گندی گالی دے کر کہا۔کہ مولوی لوگ پور از ور لگا چکے ہیں مگر حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں ناکام رہے ہیں۔اس کا اب ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ ہے۔کہ سب مل کر حضرت مرزا صاحب کے پاس جائیں اور کہیں۔کہ ہم آپ کو سب سے بڑا عالم تسلیم کرتے ہیں۔ہم ہارے اور آپ جیتے اور اپنی پگڑیاں ان کے پاؤں پر رکھ دیں اور درخواست کریں کہ اب آپ ہی قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دیں۔ہم تو پھنس گئے ہیں ،اب معافی چاہتے ہیں اور آپ کو اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں۔اگر مولوی صاحب ایسا کریں، تو دیکھ لیتا حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم میں سے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دینا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ عظمت دی ہے کہ آپ کے مقابلہ میں اور کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو۔کیونکہ اگر وہ جماعت میں بڑا ہے تو آپ کی غلامی کی وجہ سے بڑا ہے۔آپ کی غلامی سے باہر نکل کر اس کی کوئی حیثیت