سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 119
119 نہیں رہتی۔مجھے یاد ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت لکھی تو کسی مسئلہ کے متعلق آپ کو خیال پیدا ہوا کہ آپ حضرت خلیفۃ اسیح اول کی بھی کوئی کتاب پڑھ لیں اور دیکھیں کہ انہوں نے اس کے متعلق کیا لکھا ہے۔آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا۔محمود ذرا مولوی صاحب کی کتاب تصدیق براہین احمدیہ لاؤ اور مجھے سناؤ۔چنانچہ میں وہ کتاب لایا اور آپ نے نصف گھنٹہ تک کتاب سنی۔اس کے بعد فرمایا اس کو وہیں رکھ آؤ اس کی ضرورت نہیں۔اب تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب چشمہ معرفت کو بھی پڑھو اور حضرت خلیفہ اسی اول کی کتاب تصدیق براہین احمدیہ کو بھی دیکھو اور پھر سوچو کہ کیا ان دونوں میں کوئی نسبت ہے اور کیا آپ نے کوئی نکتہ بھی اس کتاب سے اخذ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب میں پیدائش عالم اور حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق ایسے مسائل بیان فرمائے ہیں کہ ساری دنیا سر دھنتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ یہ لامحل عقدے تھے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حل کر دیا۔یہ سب برکت جو ہمیں ملی ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملی ہے۔اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ اپنی ساری زندگی آپ کے لائے ہوئے پیغام کی خدمت میں لگادیں اور کوشش کریں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد، پھر اس کی اولا د اور پھر اس کی اولاد بلکہ آپ کی آئندہ ہزاروں سال تک کی نسلیں اس کی خدمت میں لگی رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خلافت کو قائم رکھیں۔مجھے پر بہتان لگایا گیا ہے کہ گویا میں اپنے بعد اپنے کسی بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتا ہوں۔یہ بالکل غلط ہے۔اگر میرا کوئی بیٹا ایسا خیال بھی دل میں لائے گا تو وہ اسی وقت احمدیت سے نکل جائیگا۔بلکہ میں جماعت سے کہتا ہوں کہ وہ دعائیں کرے کہ خدا تعالیٰ میری اولاد کو اس قسم کے وسوسوں سے پاک رکھے۔ایسا نہ ہو کہ اس پروپیگنڈہ کی وجہ سے میرے کسی کمزور بچے کے دل میں خلافت کا خیال پیدا ہو جائے۔حضرت خلیفہ اسی اول تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آقا تھے، اگر ان کی اولاد میں بھی کسی وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ خلافت کو حاصل کریں تو وہ بھی تباہ ہو جائے گی۔کیونکہ یہ چیز خدا تعالیٰ نے اپنے قبضے میں رکھی ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے مال کو اپنے قبضہ میں لینا چاہتا ہے وہ چاہے کسی نبی کی اولاد ہو یا کسی خلیفہ کی، وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے گھر میں چوری