سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 117
112 میں بڑے بڑے بادشاہ گذرے ہیں مگر انہوں نے اسلام کی وہ خدمت نہیں کی جو اس غریب جماعت نے کی ہے اور یہ چیز ہر جگہ نظر آتی ہے۔یورپ والے بھی اسے مانتے ہیں اور ہمارے مبلغوں کا بڑا اعزاز کرتے ہیں اور انہیں اپنی دعوتوں اور دوسری تقریبوں میں بلاتے ہیں۔۔۔یہ صرف خلافت ہی کی برکت تھی۔جس نے احمدیوں کو ایک نظام میں پرو دیا اور اس کے نتیجہ میں انہیں طاقت حاصل ہوگئی میرے سامنے اس وقت چوہدری غلام حسین صاحب بیٹھے ہیں۔جو مخلص احمدی ہیں اور صحابی ہیں۔یہ اپنی آواز کو امریکہ کس طرح پہنچا سکتے ہیں۔یہ اپنی آواز کو انگلینڈ کیسے پہنچ سکتے ہیں۔یہ اپنی آواز کوفرانس، جرمنی اور سپین میں کیسے پہنچا سکتے ہیں۔یہ بے شک جو شیلے احمدی ہیں مگر یہ اپنی آواز دوسرے ملک میں اپنے دوسرے احمدی بھائیوں کے ساتھ مل کر ہی پہنچا سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔اسی مل کر کام کرنے سے اسرائیل کو ڈر پیدا ہوا اور اسی مل کر کام کرنے سے ہی پاکستان کے مولوی ڈرے اور انہوں نے ملک کے ہر کونہ میں یہ جھوٹا پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ احمدیوں نے ملک کے سب کلیدی عہدے سنبھال لئے ہیں انہیں اقلیت قرار دیا جائے اور ان عہدوں سے انہیں ہٹا دیا جائے۔حالانکہ کلیدی عہدے انہی کے پاس ہیں۔ہمارے پاس نہیں۔یہ سب طاقت خلافت کی وجہ سے ہے۔خلافت کی وجہ سے ہی ہم اکٹھے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔اب اس فتنہ کو دیکھو جوسن ۵۳ ء کے بعد جماعت میں اٹھا۔اس میں سارے احراری فتنہ پردازوں کے ساتھ ہیں۔تمہیں یاد ہے کہ سن ۳۴ء میں بھی احراری اپنا سارا زور لگا چکے ہیں اور بُری طرح ناکام ہوئے ہیں اور اس دفعہ بھی وہ ضرور نا کام ہوں گے۔اس دفعہ اگر انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح اول کی اولاد ان کے ساتھ ہے، اس لئے وہ جیت جائیں گے۔تو انہیں جان لینا چاہئے کہ جماعت کے اندر ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کے مقابلہ میں خواہ کوئی اٹھے، جماعت احمد یہ اس کا کبھی ساتھ نہیں دے گی۔کیونکہ انہوں نے دلائل اور معجزات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے۔ان میں سے ہر شخص نے اپنے اپنے طور پر تحقیقات کی ہے۔کوئی گوجرانوالہ میں تھا۔کوئی گجرات میں تھا۔کوئی شیخو پورہ میں تھا۔وہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتا بیں پہنچیں اور آپ کے دلائل نقل کر کے بھجوائے گئے، تو وہ لوگ ایمان لے آئے۔پھر ایک دھاگہ میں پروئے جانے کی