سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 106

1۔7 تک پہنچا دیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے۔تو آپ لوگ یا صحابی ہیں۔یا تابعی ہیں۔ابھی تبع تابعین کا وقت نہیں آیا ان دونوں درجوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انصار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھیں۔چنانچہ جب ہم انصار کی تاریخ کو دیکھتے ہیں۔تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ایسی قربانیاں کی ہے کہ اگر آپ لوگ جو انصار اللہ ہیں ان کے نقش قدم پر چلیں تو یقیناً اسلام اور احمدیت دور دور تک پھیل جائے اور اتنی طاقت پکڑ لے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابلہ پر ٹھہر نہ سکے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو شہر کی تمام عورتیں اور بچے با ہر نکل آئے۔تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے جاتے ہوئے خوشی سے گاتے چلے جاتے تھے کہ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِياتِ الْوَدَاع رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے۔وہ وہی جہت تھی جہاں سے قافلے اپنے رشتہ داروں سے رخصت ہوا کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے اس موڑ کا نام ثنیات الوداع رکھا ہوا تھا۔یعنی وہ موڑ جہاں سے قافلے رخصت ہوتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موڑ سے مدینہ میں داخل ہوئے۔تو مدینہ کی عورتوں اور بچوں نے یہ گاتے ہوئے آپ کا استقبال کیا کہ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِياتِ الْوَدَاعِ یعنی ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ جس موڑ سے مدینہ کے رہنے والے اپنے رشتہ داروں کو رخصت کیا کرتے تھے۔اس موڑ سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بدر یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہر کر دیا ہے۔پس ہمیں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس لئے کہ وہ تو اس جگہ جا کر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو رخصت کرتے ہیں۔لیکن ہم نے وہاں جا کر سب سے زیادہ محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وصول کیا ہے۔پھر ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گردگھیرا ڈال لیا اور ان میں سے ہر شخص کی خواہش تھی۔کہ آپ اس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گذرتی تھی۔اس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے یا رسول اللہ یہ ہمارا گھر ہے جو آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔یا رسول اللہ آپ ہمارے پاس ہی ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ