سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 105
۱۰۵ وسلم کے قریب ہوئے۔اس طرح تین درجے بن گئے۔ایک صحابی دوسرے تابعی اور تیسرے تبع تابعی۔صحابی وہ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں۔تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کو دیکھا اور تبع تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔دنیوی عاشق تو بہت کم حوصلہ ہوتے ہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں میرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا مسلمانوں کی محبت رسول دیکھو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ قوت ہوئے۔تو انہوں نے آپ سے قریب ہونے کے لئے تابعی کا درجہ نکال لیا اور جب تابعی ختم ہو گئے۔تو انہوں نے تبع تابعین کا درجہ نکال لیا۔اس شاعر نے تو کہا تھا۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں میرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا مگر یہاں یہ صورت ہوگئی کہ تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر ان کے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر تیرہ سو سال تک برابر چاہتا چلا جاؤں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا بلکہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ کے چاہنے والوں کو چاہتے ہیں چاہے وہ صحابی ہوں۔تابعی ہوں۔تبع تابعی ہوں۔یا تبع تبع تابعی ہوں اور ان کے بعد یہ سلسلہ خواہ کہاں تک چلا جائے۔ہم کو وہ سب لوگ پیار لگتے ہیں۔کیونکہ ان کے ذریعہ ہم کسی نہ کسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاتے ہیں۔محدثین کو اس بات پر پڑا اخر ہوتا تھا کہ وہ تھوڑی سی سندات سے محمد رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح اول فرمایا کرتے تھے۔کہ میں گیارہ بارہ راویوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم تک جا پہنچتا ہوں۔آپ کے بعض ایسے اساتذہ مل گئے تھے جو آپ کو گیارہ بارہ روایوں کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے تھے اور آپ اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتباع نے آپ کی صحابیت کو بارہ تیرہ درجوں