سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 107
۱۰۷ لیتے۔تا کہ آپ کو اپنے گھر میں اتر والیں۔مگر آپ ہر شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے۔یہ وہیں کھڑی ہوگی جہاں خدا تعالیٰ کا منشاء ہوگا۔آخر وہ ایک جگہ پر کھڑی ہوگئی۔رسول کریم اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔سب سے قریب گھر کس کا ہے؟ حضرت ابوایوب انصاری نے فرمایا۔یا رسول اللہ میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔حضرت ابوایوب انصاری کا مکان دو منزل تھا۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اوپر کی منزل تجویز کی۔مگر آپ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل کو پسند فرمایا۔حضرت ابوایوب انصاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصرار پر مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نیچے سورہے ہیں۔پھر وہ کس طرح اس بے ادبی کے مرتکب ہو سکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔اتفاقاً اسی رات ان سے پانی کا ایک برتن گر گیا۔حضرت ابو ایوب انصاری نے دوڑ کر اپنا لحاف اس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا تا کہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے۔صبح کے وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے۔جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوپر کی منزل پر رہنے میں راضی ہو گئے۔اب دیکھو یہ اس عشق کی ایک ادنی سی مثال ہے جو صحابہ کو حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا۔پھر یہ واقعہ کتنا شاندار ہے کہ جب جنگ احد ختم ہوئی اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض صحابہ کو اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدان جنگ میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔دیکھا کہ ان کی حالت نازک ہے اور وہ جان تو ڑ رہے ہیں۔اس نے زخمی انصاری سے ہمدردی کا اظہار کرنا شروع کیا۔انہوں نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کے لئے آگے بڑھایا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی بھائی مجھے مل جائے۔انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت خطر ناک معلوم ہوتی ہے اور بچنے کی امید نہیں کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ داروں کو دینا چاہتے ہوں۔اس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ہاں میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں مر رہا ہوں مگر میں اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑے جارہا ہوں۔میں جب تک زندہ رہا اس نعمت کی اپنی جان کو خطرہ ڈال کر بھی حفاظت کرتا رہا۔لیکن اے میرے بھائیو اور رشتہ داروئیں اب مر رہا ہوں اور خدا تعالیٰ کی یہ مقدس امانت