سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 104

۱۰۴ جنہوں نے ایسے شخص کی بیعت کی۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منبع تھا اور ان کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیا ، جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَوْ كَانَ مُوسَىٰ وَعِيْسَىٰ حَيَّيْنِ لَمَا وَ سِعَهُمَا إِلَّا اتِّباعی کہ اگر موسیٰ اور عیسی علیهما السلام میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو وہ میرے متبع ہوتے۔غرض اس وقت جماعت کے انصار اللہ میں دوباتیں پائی جاتی ہیں۔ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک متبع اور مثیل کے ذریعہ اسلام کی خدمت کا موقعہ ملا اور وہ آپ لوگ ہیں۔گویا حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال آپ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔جس طرح ان کے حواریوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔اسی طرح مثیل مسیح موعود کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔پھر آپ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے انصار اللہ کی بات بھی پائی جاتی ہے۔جس طرح انصار اللہ میں وہی لوگ شامل تھے جو آپ کے صحابہ تھے۔اسی طرح آپ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ شامل ہیں۔گویا آپ لوگوں میں دونوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔آپ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ بھی ہیں۔جنہیں انصار اللہ کہا جاتا ہے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو انصار کہا گیا پھر جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنا متبع قرار دیا ہے اوان کے صحابہ کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود السلام کے ایک کہا گیا ہے۔تبع کے ہاتھ بیعت کرنے والوں کو بھی انصار اللہ شاید بعض لوگ یہ سمجھیں کہ یہ درجہ کم ہے لیکن اگر چالیس سال اور گذر گئے ، تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے زمانہ کے لوگوں کو بھی تلاش کریں گے اور اگر چالیس سال اور گذر گئے تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے ملنے والوں کو تلاش کریں گے۔اسلامی تاریخ میں صحابہؓ کے ملنے والوں کو تابعی کہا گیا ہے۔کیونکہ وہ صحابہ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے تھے اور ایک تبع تابعی کا درجہ ہے۔یعنی وہ لوگ جو تا بعین کے ذریعہ صحابہ کے قریب ہوئے اور آگے صحابہ کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ