الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 54
54 فلسفة یورپ جدلی مادیت فی ذاتہ اس صلاحیت کی حامل نہ تھی کہ وہ بجائے خود تمام روئے زمین پر کوئی سیاسی یا معاشی انقلاب بر پا کر سکتی۔اس کے بر عکس جرمنی سے مقابلہ کم ترقی یافتہ صنعتی ملک میں لینن کی کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ روسی انقلاب مارکسزم کا بلا واسطہ نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ محض ایک اتفاقی امر تھا۔یہ روسی تاریخ کی بدقسمتی تھی کہ لینن اس وقت موجود تھا جب زار کی استبدادی، خود غرضانہ اور قابل نفرت حکومت اور جنگ عظیم اول میں شکست کی بددلی نے مل کر ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس کا لینن نے خوب فائدہ اٹھایا۔روس پکے ہوئے پھل کی طرح کسی بھی انقلاب کی جھولی میں گرنے کیلئے تیار تھا۔اگر وہاں کمیونزم نہ بھی آتا تو پھر کوئی اور انقلاب آیا ہوتا۔صرف لینن جیسا ایک رہنما در کار تھا۔یہ محض اتفاق تھا کہ روس کو لینن کی شکل میں وہ عظیم انقلابی قائدمل گیا جو مارکس کا سائنسی اشتراکیت پسند شاگرد بھی تھا۔استحصال کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرنے والا خود ہی روسی تاریخ کا بدترین استحصالی ثابت ہوا۔حقیقت میں روسی تاریخ کا رخ موڑنے کا سہرا جدلی مادیت کے سر نہیں بلکہ لینن کے سر ہے۔دیگر تضادات کے علاوہ مارکس کو ایک انتہائی سنگین کوتاہی کا ملزم بھی گردانا جاتا ہے۔اس کے سوشلزم کے سائنسی اندازوں میں ذہنی صلاحیتوں کی اہمیت کو کلیۂ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ذہن، خیالات اور افکار کا سرچشمہ ہے۔اس کا دماغ سے الگ ایک اپنا وجود ہے۔اگر چہ دماغ خیالات و افکار کا مادی مسکن ہے لیکن اس مسکن میں مقیم ذہن کی کوئی مادی حیثیت نہیں ہے۔اگر دماغ کو کمپیوٹر سے تشبیہ دی جائے تو ذہن کو اس کا آپریٹر قرار دیا جا سکتا ہے۔ایک عمدہ تصویر اس وقت جنم لیتا ہے جب ذہن دماغ کے کمپیوٹر کو چلاتا ہے۔اگر دو دماغ سو فیصد ایک جیسے ہوں لیکن ان کو چلانے والے ذہن مختلف ہوں تو ان میں جنم لینے والے افکار ہرگز یکساں نہیں ہوں گے۔انسان کی تمام تر سائنسی ، سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی اس کے ذہن ہی کی مرہون منت ہے۔دنیا کی طاقتور اقوام، کمزور اقوام پر مجموعی طور پر اپنی برتر ذہنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہی حکومت کیا کرتی ہیں۔یہ ذہنی صلاحیتیں بورژوائی طبقہ کو خوفناک حد تک مطلق اقتدار کا مالک بنا دیتی ہیں۔لیکن جدلی مادیت کا نظریہ اس طاقتور اور مؤثر عصر کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا۔