الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 55

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 55 مارکس کی ایک غلطی یہ بھی تھی کہ اس کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام میں جس جمع شدہ سرمایہ کا سرمایہ دار استحصال کرتے ہیں وہ دراصل کارکنوں ہی کی محنت کا پھل ہوا کرتا ہے۔اس کا خیال تھا کہ یہ سرمایہ در اصل محنت کشوں کو ان کی محنت کے معاوضہ کی عدم ادائیگی اور بینکوں میں جمع سرمایہ کے سود کا نتیجہ ہے۔اس طرح پرولتاری اکثریت بورژوائی اقلیت کے ہاتھوں لوٹی جاتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف محنت دولت کے انبار نہیں لگا سکتی جب تک اس کے ساتھ ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن مصروف کار نہ ہو۔لیکن مارکس اس حقیقت کو آسانی سے نظر انداز کر دیتا ہے۔ترقی یافتہ سائنسی ایجادات نے محنت اور پیداوار کی باہمی نسبت میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔یہ سب کچھ بنیادی طور پر ذہنی قوت کا ہی کرشمہ ہے۔تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں مزدور اپنا خون پسینہ ایک کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی مجموعی پیداوار صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے محنت کشوں کی پیداوار کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔یہ فرق اعلیٰ قسم کے آلات، جدید ٹیکنالوجی اور بہترین مشینوں اور محنت کے اشتراک ہی کا مرہون منت ہے۔اعلیٰ ذہنی صلاحیت ہی دراصل پیداوار میں اضافہ کا موجب ہوا کرتی ہے۔ورنہ محنت تو محنت ہی ہے خواہ برطانیہ میں ہو یا بنگلہ دیش میں، بحرالکاہل میں پائے جانے والے جزائر میں ہو یا افریقہ کے جنگلوں میں۔پھر کیا وجہ ہے کہ کسی جگہ تو محنت کا معاوضہ یادہ دیا جائے اور کسی جگہ کم ؟ لازماً یہ ذہن ہی ہے جو اس غیر مساوی معاوضہ کے سلسلہ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔یہاں یہ امر یا در ہے کہ ذہنی قوت ایک طبعی صلاحیت ہے جو اچھے برے ہر قسم کے مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتی ہے لیکن اس امر کا انحصار اپنی صلاحیت کو استعمال کرنے والے پر ہوا کرتا ہے۔جس طرح محنت ذہن کی مدد سے بے حد بار آور ہو جاتی ہے اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی اعلیٰ صلاحیتوں کی مدد سے ناقابل شکست طاقت بن جاتا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کی یہ طاقت دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز سے خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ دولت کے چند ہاتھوں تک محدود ہونے کا عمل تب ممکن ہے جب اس کے پس منظر میں ایک اعلیٰ ذہنی قوت کارفرما ہو۔اس ذہنی قوت