الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 53

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 53 کا دست نگر نہیں ہے۔کوئی ان قوانین کا شعور رکھے یا نہ رکھے، نظام فطرت کا دیو ہیکل پہیہ چلتا چلا جاتا ہے۔جدلی مادیت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔اگر مارکس اور لینن پیدا نہ ہوتے تو روس یا دنیا میں کہیں اور کمیونسٹ انقلاب بر پا نہ ہو سکتا؟ روس اپنی تاریخ کے اس دور میں لیفن کی موجودگی یا عدم موجودگی سے بے نیاز انقلاب کیلئے تیار تھا۔لینن نے صرف اتنا کیا کہ اس طوفان کے برپا ہونے پر اس نے اسے سائینٹفک سوشلزم کے مفاد کیلئے استعمال کیا۔لیکن ڈارون کے نظریہ ارتقا کیلئے کسی مؤید کی ضرورت نہیں۔کیونکہ فطرت کا رخ متعین کرنے کے لئے کسی ڈیزائنر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہیگل اور مارکس کے فلسفہ کے تقابلی جائزہ کے دوران ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تصورات مادی دنیا میں معروضی تبدیلیوں کا باعث ہوتے ہیں یا معروضی تبدیلیاں تصورات کو جنم دیتی ہیں؟ اگر مارکس درست ہے تو پھر اسے کمیونسٹ انقلاب کیلئے کسی نظریاتی اور عقلی تحریک کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ سائنسی طور پر بھی لازماً یہی نتائج ظاہر ہونے تھے۔اگر کمیونزم، نظریہ ارتقا کی طرح فی ذاتہ ایک قانون ہوتا تو پھر مختلف قوتیں باہم مل کر بھی کمیونزم کے راستہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی تھیں۔یہاں مارکس کے نظریات میں ایک اور تضاد ہے۔بظاہر وہ دعوئی تو یہ کرتا ہے کہ جدلی مادیت کو تصور اور فکر پر تقدم حاصل ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے لئے وہ تصور کی قوت پر ہی انحصار کرتا ہے۔اگر مارکس کی سوچ ٹھوس سائنسی اصولوں پر مبنی ہوتی تو پھر سیاسی اور اقتصادی قوت چند ہاتھوں سے نکل کر لازماً کئی ہاتھوں میں منتقل ہو جاتی کیونکہ یہی اس کی فکر کا منطقی نتیجہ تھا۔لیکن وہ حالات جنہوں نے مارکس اور لینن کو جنم دیا قطعا ناگزیر نہیں تھے کیونکہ مارکس کا اعلیٰ پہنی فکری صلاحیتوں کے ساتھ اس عالم میں جنم لینا اور پھر اینگلز (Engels) جیسے دانشور، بارسوخ اور دولتمند کی تائید حاصل کر لینا ہرگز جدلیاتی مادیت کا فکری نتیجہ نہ تھا۔مزید برآں جرمنی میں جو مارکس کے فلسفہ کی رو سے پرولتاری انقلاب بر پا کرنے والے تمام عوامل کا مثالی اکھاڑہ تھا ایسا انقلاب لانے میں اس کی ناکامی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ