الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 611 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 611

580 مستقبل میں وحی و الهام ہمیشہ معقولیت پر مبنی ہوتا تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کے عقائد اور خیالات اسی معقولیت کی کسوٹی پر بآسانی غلط ثابت کئے جاسکتے تھے۔اگر حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہوتا تو چاہئے تھا کہ ہر مذہب میں الگ نام اور خطاب کا حامل مصلح آتا۔اس صورت میں دعوئی اور جواب دعویٰ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا اور ان میں سے ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوتا کہ صرف وہی موعود مصلح کا حقیقی مظہر ہے اور ہر ایک بنی نوع انسان کو یہ کہہ کر بلاتا کہ فقط میں ہی تمہارا نجات دہندہ ہوں۔اسی طرح ہر ایک یہ اعلان کرتا کہ دوسرے تمام مدعی جھوٹے اور کذاب ہیں۔اس منظر کا پاگل پن ظاہر و باہر ہے اور ذرہ بھر بھی فہم وفراست رکھنے والا شخص کسی ایسے خدا پر ہرگز ایمان نہیں لا سکتا جو اپنے نام پر اور اپنے محکم سے بنی نوع انسان کو سینکڑوں متحارب گروہوں میں تقسیم کر دے۔یہ کیسا خدا ہو گا جو حضرت عیسی کو عیسائی دنیا میں مبعوث کرے تا کہ وہ تثلیث یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس کے نام پر ساری دنیا کو فتح کرنے کا اعلان کرے اور جب یہ ہو چکے تو وہ حضرت کرشن کے روپ میں سرزمین ہند میں ظاہر ہو جائے اور ہندوستانی لوگوں کو یقین دلا دے کہ خدا نہ تو ایک ہے، نہ دو، نہ تین بلکہ وہ خود خداؤں کا ایک ایسا جم غفیر ہے جس کی شخصیات اور مظاہر کا شمار ممکن نہیں۔اور اسی کو درختوں، سانپوں، بچھوؤں، ہاتھیوں اور بہرہ کر دینے والی آسمانی بجلی کی کڑک کے روپ میں پوجا جائے۔اسی طرح رات کے گہرے سکوت میں تیرتے ہوئے چاند کی پوجا کی جائے۔نیز سورج بھی وہ خود ہے اور ان گنت ستارے بھی اسی کی مختلف صورتیں ہیں۔زمین پر اسے گائیوں، بندروں، ریچھوں، لگڑ بگڑوں، شیروں، گھوڑوں، گدھوں اور خشکی وتری نیز فضا میں موجود جانداروں کی بیشمار صورتوں میں صاف پہچانا جائے۔نیز بدروحوں اور تصوراتی جنوں، بھوتوں کو اسی کی مختلف شکلیں جان کر اس کی پرستش کی جائے اور بانگ بلند اعلان کرے کہ میری طرف دوڑ کر آؤ اور ہماری عبادت کرو۔پیشتر اس کے کہ اس کی آواز اس کے عبادت گزاروں کی اے کرشنا، ہرے رام، ہرے رام کی دعاؤں کے شور میں ڈوب جائے بدھ کی آواز بلند ہوگی جو حضرت کرشن کے ان جملہ اوتاروں کے وجود کا سرے سے انکار کر دے گی اور بقول ان کے ماننے والوں کے حضرت بدھ تو بآواز بلند