الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 610

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 579 مذہبی فرقوں کا جواب خدا تعالیٰ کے نمائندے نہیں رہے اور جو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ آنے والا مصلح ان کے مسخ شدہ عقائد ہی کی تائید کرے گا۔مصلحین کا تعلق تو اللہ تعالیٰ کے سب بندوں سے ہوتا ہے نہ کہ خلق خدا کے خود ساختہ آقاؤں سے۔توحید اور رسالت ہر مذہب کے دو بنیادی ارکان ہیں۔نام اور خطاب مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اصل بات یہ ہے کہ مدعی کا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونا ضروری ہے۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ ایک نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں متعدد ناموں اور خطابات کی حامل شخصیات بن گئے ہیں۔لیکن اکثر ملاؤں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی اور عوام الناس کو یہ کہہ کر اشتعال دلایا کہ مرزا صاحب کا یہ دعوی ہے کہ تمام موعود انبیاء ایک ہی وقت میں جسمانی طور پر آپ کے وجود میں جمع ہو گئے ہیں۔اس پر عوام کو سخت صدمہ پہنچا کہ آخر ایک ہی شخص بیک وقت کرشن ، بدھ ، عیسی اور مہدی کیسے ہو سکتا ہے؟ ان میں سے بعض نے تو حقارت سے کہہ دیا کہ مدعی تو یقیناً مجنون معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ آپ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ اسی سلوک کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے آقا و مولیٰ آنحضرت ﷺ کے ساتھ روا رکھا گیا تھا جب آپ عے نے تو حید خالص کا علم بلند کیا۔اس وقت کی مشرک ملائیت نے دانستہ طور پر اس پیغام کو مسخ کر کے عوام الناس کے سامنے پیش کیا اور لوگوں کو یقین دلا دیا کہ آپ ﷺ نے چالاکی سے ہمارے متفرق خداؤں کو اکٹھا کر کے ایک خدا بنا دیا ہے اور اس کا نام اللہ رکھ دیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے: اجَعَلَ الْآلِهَةَ الْهَا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ (ص 6:38) ترجمہ: کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک ہی معبود بنا لیا ہے۔یقیناً یہ (بات) تو سخت عجیب و غریب ہے۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اپنے مخالفین سے بحث کے دوران جس و غیر دانش و دانائی سے کام لیا، ایک غیر متعصب محقق کیلئے اسے سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔آپ کا موقف