الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 612
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 581 ہستی باری تعالیٰ کے تصور ہی کو حقارت کی نظر سے دیکھیں گے جس کے مطابق حضرت کرشن نے بطور خدا بے شمار شکلیں اختیار کر رکھی ہیں اور بآواز بلند اعلان کریں گے کہ میں بدھ ہوں۔نہ تو میں خدا ہوں اور نہ ہی میرے سوا کوئی اور خدا ہے۔فقط میں ہی انسانی عقل و دانش کی انتہا اور کمال ہوں۔اس جہان میں تمہارے لئے یہی جاننا کافی ہے۔آؤ تمام خداؤں کا انکار کر کے انسان کی خودتراشیدہ خرافات سے نجات کا جشن منائیں۔میں نجات دلانے کیلئے ایک بار پھر دنیا میں آیا ہوں جیسا کہ ہر ہزار سال کے بعد میرا ظہور ہوتا رہا ہے اور اب میرے سوا کوئی نہیں جو مجھ سے بہتر تمہاری رہنمائی کر سکے۔لیکن قبل اس کے کہ وہ ایک ہمہ گیر سناٹے میں ڈوب کر اپنے اندرونی خلا کے ازلی ابدی عدم میں واپس چلا جائے ایک اور آواز ہمسایہ ملک ایران سے بلند ہو گی۔یہ آواز روشنی کے خدا اہورا مزدا ( Ahura Mazda) کی ہوگی جو حضرت زرتشت کی زبان پر جاری ہوگی اور کہے گی کہ اے بھارت ، تبت اور چین کے سپوتو ! جو آواز تم نے ابھی سنی یہ ظلمات کے خدا اہرمن کی آواز تھی جو میرے ساتھ خدائی میں شریک ہے اور یہ وہی ہو سکتا ہے کیونکہ میرے اور اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔اے بنی آدم! غور سے سنو کہ خدا نہ ایک ہے، نہ تین، چار یا پانچ۔بے شمار خداؤں پر یقین رکھنا سراسر حماقت ہے۔ہم نہ تو ایک ہیں نہ کئی بلکہ صرف دو ہیں اور باقی سب قصے ہیں۔میں نیکی کا خدا ہوں اور وہ بدی کا۔یہ صرف وہی ہو سکتا ہے جس کی آواز تم نے بدھ کے روپ میں اس سے پہلے سنی۔وہ ظلمت کا خدا ہے جبکہ میں روشنی کا خدا ہوں۔وہ ہمیشہ میرا انکار کرتا اور مجھے جھٹلاتا آیا ہے اور میرے بندوں کو میری عبادت سے روکتا ہے۔وہ بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے۔وہ ہر انسان کی انا پر مسلط ہوتا ہے اور اس انا کے نام پر حاصل شدہ خراج تحسین کا خود کو حقدار سمجھنے لگتا ہے۔بایں ہمہ میں مانتا ہوں کہ اس کے باوجود بھی وہ خدا ہے مگر تاریک ترین رات کی طرح۔پس تم صبر کرو لیکن اس سے ہوشیار رہو اور عبادت صرف میری کرو۔مذکورہ بالا متحارب مذہبی گروہوں کی وجہ سے برپا ہنگامہ کے دوران اسلامی دنیا بھی امام مہدی