الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 609
578 مستقبل میں وحی و الهام بازار گرم ہو گیا۔جو کل تک ہندوستان کے افق پر ابھرتا ہوا درخشاں ستارہ اور مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز اور اسلام کا محبوب ترین رہنما تھا، اب ان کے نزدیک گردن زدنی ٹھہرا دیا گیا یہاں تک کہ اب وہ ایک عام مسلمان کہلانے کا بھی مستحق نہ رہا۔مگر یہ مخالفت اسے مرعوب نہ کر سکی اور نہ ہی اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے باز رکھ سکی۔، عیسائی بھی معاندانہ رویہ میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔انہوں نے بھی آپ اور آپ کے مشن کو تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا حتی کہ برطانوی ہند کی عدالتوں میں آپ کے خلاف قتل کے جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے۔لیکن نہ تو آپ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش آئی اور نہ ہی آپ مرعوب ہوئے۔صرف یہی نہیں بلکہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت کرشن کے مظہر ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا جو ہندوستان کے ایک عظیم نبی تھے اور جنہیں ہندو خدائی کا درجہ دیتے ہیں۔آپ نے آریہ سماج کو جو ہندوؤں میں سب سے زیادہ فعال اور سرگرم فرقہ تھا اپنا دشمن بنالیا کیونکہ آپ نے اسلام اور آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر ان کے ظالمانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا۔آپ نے ان کے رہنماؤں کو مباہلہ کی دعوت دی تا کہ جھوٹے پر خدا کا عذاب نازل ہو۔مختصر یہ کہ آپ نے دعویٰ کیا کہ آخری زمانہ میں آنے والے تمام مصلحین کی پیشگوئیوں کا مصداق صرف ایک ہی شخص ہے۔مختلف صحیفوں میں مذکور ناموں اور خطابوں کے اختلافات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اہمیت صرف اس بات کی ہے کہ یہ صلح براہ راست خدا کی طرف سے مبعوث ہو۔تعصب کے مارے ہوئے ان لوگوں کے نزدیک آپ کی اور آپ کے دعوی کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔زیادہ تر یہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کے انکار میں اس قدر ہٹ دھرمی دکھائی۔خدا تعالیٰ کے فرستادوں کی طرح آپ کی بھی تکذیب کی گئی اور انہی کی طرح آپ کو بھی خدا کی تائید و نصرت حاصل ہوئی جیسا کہ وہ ہمیشہ سے کرتا چلا آیا ہے۔تعجب ہے لوگ کیسے بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے انبیاء کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا سلوک فرماتا ہے اور انبیاء کرام بھی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔لہذا ضروری تھا کہ آنے والا عالمگیر مصلح بھی صرف اور صرف خدا تعالیٰ ہی کا نمائندہ ہو نہ کہ ان مختلف