الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 555
526 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم کیونکہ اس نے قلم سے لکھنا سکھایا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ قلم حصول علم کا ذریعہ اور علم ہر قسم کی عظمت و عزت کا سر چشمہ ہوگا۔ضمنا یہ بھی یادر ہے کہ یہ وحی اس ہستی پر نازل ہوئی جس نے کبھی قلم پکڑنا تک نہیں سیکھا تھا۔اس آیت کا ایک اور مفہوم یہ ہے کہ علم طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور قلم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گا۔اگلی آیت ( یعنی سورۃ التکویر کی آیت 12) اسی موضوع پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ انسانی علم آسمان کی بلندیوں کو چھورہا ہو گا۔چنانچہ فرمایا۔وَإِذَا السَّمَاءِ كَشِطَتْ (التكوير (12:81) ترجمہ: اور جب آسمان کی کھال ادھیڑ دی جائے گی۔یہ آیت آخری زمانہ میں اسلام کے زوال اور عیسائی طاقتوں کے عروج کا ایک المناک موازنہ پیش کرتی ہے جب اسلام کے سورج کی روشنی لپیٹ دی جائے گی اور عالم اسلام کے ستارے ماند پڑ جائیں گے۔مادہ پرست دنیا خلا کے راز معلوم کرنے کیلئے آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچے گی۔یہ تناظر ہمیں قرآن کریم کی بعض اور آیات کی یاد دلاتا ہے جن میں فضائی اور خلائی سفر کی پیشگوئی کی گئی ہے۔وہ آیات درج ذیل ہیں۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ في الذريت 8:51) ترجمہ: قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔وَالْمُرْسَلَتِ عُرْفَانَ فَالْعَصِفْتِ عَصْفًا نَ وَالثَّشِراتِ نَشْرًا فَالْفَرِقْتِ فَرْقان ( المرسلت 2:77-5) ترجمہ قسم ہے پے بہ پے بھیجی جانے والیوں کی۔پھر بہت تیز رفتار ہو جانے والیوں کی۔اور ( پیغام کو اچھی طرح نشر کرنے والیوں کی۔پھر واضح فرق کرنے والیوں کی۔یہ اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات ایک ایسے آسمان کی منظر کشی کرتی ہیں جس میں کثرت سے سفر کیا جائے گا۔اس میں راستے بنے ہوں گے۔پیغام رساں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پرواز کریں گے۔فضائی پراپیگنڈہ کا دور دورہ ہوگا اور بالآخر انسان کیلئے ہوا کے دوش پر پرواز۔۔