الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 554
گا الهام ، عقل ، علم اور سچائی ! 525 سے دوبارہ بیان کیا گیا ہے۔مذکورہ بالا سب کے سب ذرائع نے بنی نوع انسان کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ان کو باہم ملانے میں پریس نے جو کردار ادا کیا ہے کوئی اور ذریعہ نہ تو اس کی اہمیت کو کم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی جگہ لے سکتا ہے۔اگر آپ اس زمانہ سے مطبوعہ لٹریچر کے کردار کو نکال دیں تو فاصلوں کے سمٹ جانے کے باوجود بنی نوع انسان ایک دفعہ پھر منتشر اور بے ہوئے دکھائی دیں گے۔زیر بحث آیت میں جدید دور کے انہی ذرائع ابلاغ اور وسیع پیمانہ پر لٹریچر کی اشاعت کا ذکر ہے۔آیت یہ ہے۔وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التكوير 11:81) ترجمہ: اور جب صحیفے نشر کئے جائیں گے۔یہ پیشگوئی چھاپہ خانوں کی ایجاد پر بھی دلالت کرتی ہے۔ورنہ قلمی نسخوں کی وسیع پیمانہ پر ترویج واشاعت ممکن نہ ہوتی۔وسیع پیمانہ پر اشاعت کا زمانہ ہی دراصل علم و تحقیق کی اشاعت کا زمانہ ہے۔قرآن کریم قلم کے کردار پر اس قدر زور دیتا ہے کہ وہ اس صفت کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے کہ اس نے انسانوں کو لکھنا سکھایا۔الله آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی سب سے پہلی سورۃ العلق کی مندرجہ ذیل آیات پر زور اعلان کرتی ہیں۔اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِن عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْن (العلق 4:96-6) ترجمہ: پڑھ ، اور تیرا رب سب سے زیادہ معزز ہے جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ان آیات کو جب زیر بحث آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ علمی ترقی کا زمانہ ہوگا جس میں کثرت سے سکولوں، کالجوں اور یو نیورسٹیوں جیسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے۔سب سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ معزز ہستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے