الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 550
الهام ، عقل ، علم اور سچائی اس سے اگلی آیت بھی ذرائع نقل و حمل سے متعلق ہے اور وہ یہ ہے۔وَإِذَا الْبِحَارُ سُجْرَتْ (التكوير 7:81) ترجمہ: اور جب سمندر پھاڑے جائیں گے۔521 لین (Lane) کے نزدیک ہجرت کا لفظ تین ملتے جلتے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور جب سمندر بھر دیے جائیں گے۔2۔اور جب سمند ر ایک دوسرے سے ملا دیئے جائیں گے۔اور جب سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔سمندروں کے بھر جانے سے مراد یہ ہے کہ سمندروں میں جہازوں کی آمد و رفت کثرت سے ہو گی۔چنانچہ اس آیت میں بھی بنیادی طور پر پہلی آیات والا مضمون ہی بیان ہوا ہے۔جب ہم اس مضمون کی طرف واپس آئیں گے تو اس کی مزید تشریح کی جائے گی۔سر دست ہم مذکورہ بالا تین معانی میں سے دوسرے کو لیتے ہیں جس میں سمندروں کے ملائے جانے کا ذکر ہے۔اس پیشگوئی کی مزید وضاحت مندرجہ ذیل آیات میں کی گئی ہے۔مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ (الرحمن 20:55-21) ترجمہ: وہ دوسمندروں کو ملا دے گا جو بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے سے ملیں گے (سردست ) ان کے درمیان ایک روک ہے ( جس سے ) وہ تجاوز نہیں کر سکتے۔وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذَبٌ فَرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا و حِجْرًا مَّحْجُورًا وَ ( الفرقان 54:25) ترجمہ: اور وہی ہے جو دو سمندروں کو ملا دے گا۔یہ بہت میٹھا اور یہ سخت کھارا ( اور ) کڑوا ہے اور اس نے ان دونوں کے درمیان (سردست ) ایک روک اور جدائی ڈال رکھی ہے جو پائی نہیں جاسکتی۔مذکورہ بالا آیات قرآن کریم کی دو مختلف سورتوں سے لی گئی ہیں۔ہر آیت میں دو مختلف