الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 549
520 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم جگہ سے دوسری جگہ حرکت یعنی بڑی طاقتوں کے ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا اونٹنیوں کے بیکار ہو جانے سے براہ راست تعلق ہے۔یادر ہے کہ پہاڑوں کی حرکت سے جہاں بھاری بھر کم سامان کی نقل و حرکت مراد ہے وہاں عظیم سیاسی قوتوں کا پھیلاؤ بھی مراد ہے۔ان دونوں مقاصد کے حصول کیلئے اونٹنیوں کی بجائے یقیناً زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور ذرائع نقل و حمل کی ضرورت تھی۔جب تک انسان کو ایسے نئے ذرائع میسر نہ ہوتے، پہلے سے موجود ذرائع نقل و حمل، خواہ وہ کتنے ہی معمولی اور ادنی تھے، کو ترک کر دینا پاگل پن ہوتا۔یہ بات تو بدیہی ہے کہ انسان اونٹنیوں کو چھوڑ کر پہاڑوں جیسے وزن اپنی نگی پیٹھ پر اٹھانے کا کبھی سوچ بھی نہ سکتا۔اس آیت سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جانوروں سے کہیں زیادہ طاقتور اور تیز ترمشینی ذرائع ایجاد ہو جائیں گے جن کی بدولت ان کا استعمال غیر اہم اور متروک ہو جائے گا۔یادر ہے کہ یہاں تمثیلی طور پر اونٹیوں کے خشکی پر استعمال ہونے والے ذرائع نقل و حمل مراد ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں کشتیوں اور جہازوں وغیرہ کا ذکر کیوں موجود نہیں ہے نیز یہ کہ قرآن کریم بحری نقل و حمل کے بارہ میں کیا پیشگوئی کرتا ہے۔اس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔فی الحال ہم اگلی آیت کو لیتے ہیں جس میں تمام قسم کے جانوروں کے اکٹھا کئے جانے کا ذکر ہے۔وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (التكوير (68) ترجمہ: اور جب وحشی اکٹھے کئے جائیں گے۔اونٹنیوں کے بیکار ہو جانے کے بعد جانوروں کے اکٹھا کئے جانے کا ذکر انتہائی غور طلب ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اونٹنیوں کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا جائے گا۔وحشی جانوروں کے اکٹھا کئے جانے کا ذکر بھی درحقیقت انقلابی ذرائع نقل وحمل کی ایجاد کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔بلاشبہ وحشی جانور ایک جگہ سے دوسری جگہ اونٹنیوں کی پشت پر نہیں لے جائے جاسکتے۔کوئی شخص یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ہاتھیوں، گینڈوں، دریائی گھوڑوں، زرافوں ، مگر مچھوں، نیلی ویل مچھلیوں اور دیو قامت تیندوؤں کو اونٹنیوں کی پشت پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا۔ان کی نقل و حمل صرف انہی ذرائع سے ممکن ہے جو موجودہ دور میں ایجاد ہوئے ہیں۔ہے۔