الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 551

522 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم سمندروں کے ملائے جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔چنانچہ موجودہ زمانہ میں بعینہ یہی واقعہ رونما ہوا۔1859 - 1869 کے دوران نہر سویز کی کھدائی اور 1903- 1914 کے دوران شہر پانامہ کی کھدائی ہوئی اور یوں دنیا نے ان پیشگوئیوں کو ایسے رنگ میں پورا ہو تے دیکھا جسے آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا انسان وہم و گمان میں بھی نہیں لاسکتا تھا۔اسی طرح کا تیسرا ملتا جلتا معنی یعنی سمندروں میں آگ کا بھڑک اٹھنا بھی کچھ کم عجیب نہیں ہے۔آج سے 1400 سال پہلے انسانی ذہن اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔یہ تصور صرف اسی دور میں جنم لے سکتا ہے جس کے دوران بحری لڑائیوں میں شدید آتشیں اسلحہ کا استعمال شروع ہو جائے۔ضمناً یادر ہے کہ جدید بحری لڑائیوں میں جہازوں کے بیڑے اتنے وسیع علاقہ کو گھیر لیتے ہیں کہ ہماری تشریح بالکل درست ٹھہرتی ہے جس کے مطابق سمندروں کے بھرے جانے سے مراد یہ ہے کہ سمندر جہازوں سے بھر جائیں گے۔اسی طرح تیسرا معنی یعنی سمندروں میں آگ بھڑک اٹھنا ایک ایسا خیال ہے جس کا تعلق اس دور سے ہے جب تیل بڑی مقدار میں آئل ٹینکرز سے نکل کر سمندر میں بہہ جائے گا جیسا کہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے۔اس طرح سمندر میں بہہ جانے والے تیل کو اکثر آگ لگا دی جاتی ہے تا کہ یہ سمندری زندگی کیلئے کم سے کم خطرہ کا باعث ہو۔ایسے مواقع پر لاکھوں مربع میل سمند ر عملاً آگ کی لپیٹ میں دکھائی دیتا ہے۔سورۃ التکویر کی اگلی آیت بھی اسی تصور کو مزید آگے بڑھاتی ہے۔آیت کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جانوروں کی بجائے انسانوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (التكوير (88) ترجمہ: اور جب نفوس ملا دیئے جائیں گے۔اس آیت کے بھی بیک وقت تین مختلف معانی ہو سکتے ہیں۔۔1 جب لوگ باہمی تعلقات کے ذریعہ اکٹھے کر دئیے جائیں گے۔2۔جب ساری دنیا کے لوگ ملا دیئے جائیں گے۔**۔3 جب لوگوں کے ملاپ کو تیز رفتار ذرائع نقل وحمل کے باعث آسان کر دیا جائے گا۔