الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 517

الهام ، عقل ، علم اور سچائی نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں ایک طے شدہ میعاد تک مہلت دیتا ہے۔پس جب ان کی میعاد پہنچے تو نہ وہ (اس سے) ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔491 یہاں انتہائی قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر انسان کو سزا دینا مقصود ہوتا تو سارے عالم حیوانات کی صف لپیٹ دی جاتی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نچلے درجہ کی تمام تر حیات کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ اپنے سے بالا تر انسانی زندگی کو قائم رکھنے میں مدد دے۔اگر یہ ختم ہو جائے تو وہ بھی ختم ہو جائیں۔فلسفیوں، سائنسدانوں اور ان کو جو کائنات میں انتخاب طبعی کو عمل تخلیق اور ارتقا دونوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جو آخری اور فیصلہ کن سوال اٹھا کر حل کرنا چاہئے تھا وہ یہ ہے: تخلیق اور انتخاب دونوں کی ذمہ دار صرف اور صرف ایک ہی ہستی ہے جو خالق کی ہے نہ کہ انتخاب کی کیونکہ انتخاب تخلیق نہیں کر سکتا۔اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔لیکن یہ نتیجہ صرف اور صرف ہستی کباری تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس سے نیچری راہ فرار اختیار کرنے کی پوری کوشش کیا کرتے ہیں۔اسی ناگزیر نتیجہ سے بچنے کیلئے ڈارون نے تخلیق اور انتخاب دونوں کے عمل کو انتخاب طبعی سے منسوب کرنے کی بالواسطہ کوشش کی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ڈارون نے واقعی یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انتخاب طبعی کا عمل بجائے خود خالق بھی ہے؟ ہمارے علم کے مطابق اس نے ہرگز ایسا نظریہ پیش نہیں کیا۔کیونکہ ہر ذی شعور آدمی کی طرح وہ خوب جانتا تھا کہ تخلیق اور انتخاب دو الگ الگ کام ہیں۔یہ بات زیادہ معقول ہے کہ خالق اپنی تخلیق میں انتخاب کا عمل بھی بروئے کار لائے۔لیکن یہ امر اندھے ارتقا کے نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لئے بڑی شدت اور تحدی سے ایسے باشعور خالق کا سرے سے انکار کر دیا جاتا ہے جو تخلیق کے ساتھ ساتھ انتخاب پر بھی قدرت رکھتا ہو۔تاہم ایسے الگ الگ اور بے شعور نظام تخلیق اور نظام انتخاب کا تصور ہی محال ہے جو باہم مربوط اور ہم آہنگ بھی ہوں۔یوں لگتا ہے کہ ڈارون نے اس مسئلہ کا یہ حل نکالا ہے کہ چونکہ انتخاب طبعی کا عمل جیز کے تخلیق کردہ اجسام کو قبول کر لیتا ہے اس لئے ایک لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ بالواسطہ انتخاب طبعی کا عمل بھی تخلیق کے عمل میں شریک ہے۔ہم نے اسی کتاب میں ایک اور جگہ اس نظریہ کا رد کرتے ہوئے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ