الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 518

492 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق جینز کی تخلیق کردہ اشیاء کو بالواسطہ یا بلا واسطه انتخاب طبعی کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ تخلیقی عوامل کو بجائے خود بیک وقت جینز کی طرف منسوب کرنا اور انہیں شعور سے عاری قرار دینا باہم متعارض امور ہیں۔ان عوامل کی نشاندہی کئے بغیر کہ آخر جینز کو پیدا کس نے کیا، ارتقا کے سفر کو خود جینز ہی سے شروع کر دینا بذات خود ایک لغو بات ہے۔ڈارون کے نظریہ کے کسی بھی حامی کیلئے اس بات کی وضاحت کرنا ناممکن ہے کہ انتخاب طبعی کے عمل نے جینز کی تخلیق کیسے کر دی اور پھر یہ کہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل باشعور دماغ کی عدم موجودگی میں جیز تخلیق کیسے اور کیونکر کرتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جسے سب سے پہلے حل کرنا چاہئے تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ یا تو جیز کا کوئی باشعور خالق ڈھونڈنا ہوگا یا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دماغ سے عاری جینز نے اپنے آپ کو خود ہی تخلیق کر لیا تھا۔گویا کہ وہ خود ہی اپنی مرضی کے مطابق تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہو گئے تھے۔لیکن فہم سے عاری کسی چیز کا حیران کن مہارت کے ساتھ خود کو تخلیق کرنا ایک نا قابل یقین امر ہے۔نیچری اس انتہائی اہم اور بنیادی شرط پر غور کئے بغیر اپنے سفر کی ابتدا جینز سے کر دیتے ہیں۔اس سوال کو زیر بحث لانا نہیں اس لئے گوارا نہیں ہے کہ اس کے جواب سے ان کے خود ساختہ نظریہ ارتقا کی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔قرآن کریم اس معمہ کا آسان حل پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سبحن اللهِ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔(القصص 69:28 ) ترجمہ: اور تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (اس میں سے ) اختیار کرتا ہے۔اور ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔پاک ہے اللہ اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔اس آیت کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ انتخاب کا عمل بنیادی طور پر خالق ہی کا حق ہے اور ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔یہاں خدا تعالٰی اپنے متعلق ایسا خالق ہونے کا اعلان فرماتا ہے جو (تخلیق کے ساتھ ساتھ ) انتخاب پر بھی کامل قدرت رکھتا ہے۔ایسا ہی ہونا بھی چاہئے اور بعینہ ایسا ہی ہے بھی۔کوئی