الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 516

490 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق پس پشت ڈال دیا جائے تو آجا کر محض انتخاب کرنے والی ایک ایسی قوت باقی رہ جاتی ہے جس کے پاس مسلمہ طور پر نہ تو دماغ ہے اور نہ ہی وہ شعوری طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جیز کو یوں پس پشت ڈال دینے سے انتخاب طبعی ہی واحد کھلاڑی کے طور پر میدان میں باقی رہ جاتا ہے۔اس لحاظ سے تخلیق اور انتخاب کی دو مختلف قوتوں کو بلا جواز آپس میں ملا دیا جاتا ہے تاہم کوئی بھی سائنسدان جو ڈارون کے نظریہ کا کچھ بھی اور اک رکھتا ہے اس کی طرف یہ نظر یہ منسوب نہیں کر سکتا کہ انتخاب طبیعی بر اور است تخلیق بھی کر سکتا ہے۔کسی تخلیق کا پہلے موجود ہونا ضروری ہے جس پر انتخاب طبیعی اپنا عمل شروع کر سکے۔یہ وہ الجھن ہے جس کو انتخاب طبعی کے نظریہ کے حامی کبھی حل نہیں کر سکتے۔قرآن کریم ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے جس میں اس مسئلہ کا مکمل حل موجود ہے۔چنانچہ قرآن کریم کے مطابق ارتقا کے حقائق اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ خالق کے دوالگ الگ وجود نہیں ہو سکتے۔صرف خالق ہی ہے جو اپنی تخلیق میں سے انتخاب کر سکتا ہے۔جس چیز کو وہ اگلے زیادہ ترقی یافتہ مرحلہ کیلئے منتخب نہیں فرما تا صفیر ہستی سے نابود نہیں ہو جاتی بلکہ اپنی سطح پر تخلیق کی بنیاد کو وسیع تر کرنے اور نظام عالم میں بامعنی کردار ادا کرنے کیلئے باقی رہتی ہے۔چنانچہ عمل ارتقا کے ہر اگلے مرحلہ کے ساتھ ساتھ ارتقا کی بنیاد بھی اسی نسبت سے وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے تا کہ وہ ارتقا کے آگے بڑھتے ہوئے سلسلہ کو سہارا فراہم کر سکے۔قرآن کریم کے مطابق عالم حیوانات میں انسان کو جو بلند ترین مقام حاصل ہے وہ نچلے درجہ کے حیوانات کے تعاون کے بغیر نہ تو حاصل ہو سکتا تھا اور نہ ہی قائم رہ سکتا تھا۔اس امر کی طرف درج ذیل آیت خاص طور پر اشارہ کرتی ہے۔وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ( النحل 62:16 ) ترجمہ: اور اگر اللہ انسانوں کا ان کے ظلم کی بنا پر مواخذہ کرتا تو اس ( زمین ) پر کوئی جاندار باقی